حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 15
(15) صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا ہے۔حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اپنی طرف سے کسی کو سردار بہشت نہیں بنا سکتے تھے۔تو آپ کی نظر مسیح موعود فر ماتے ہیں ان کے روحانی مراتب پر تھی ہرگز اس بات پر نہیں تھی کہ چونکہ میری بیٹی کی اولا د سے ہوں گے۔میری بیٹی کی اولا د سے پیدا ہوں گے یا بیٹی کی پشت سے پیدا ہوں گے۔اس لئے یہ سر دوران بہشت میں پس ان کا سرداران بہشت ہونا بتا تا ہے کہ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی ورثہ پایا ہے۔آپ فرماتے ہیں اس اعلیٰ بات کا ذکر تم نہیں کرتے اور محرم کے مقام یا ویسے مجالس میں خونی رشتہ کی باتیں کرتے چلے جاتے ہو۔اگر ایسا کرو گے تو دوسرے روحانی ورثہ پانے والوں کی طرف بھی محبت کی نگاہ پڑے گی۔نفرت کی نگاہ ان پر نہیں پڑ سکتی۔یہی وجہ تفریق ہے۔یہی بیماری ہے جس کی نشاندہی حضرت مسیح موعود نے فرمائی اور جس طرف اب تو جہ کرنا ضروری ہے۔تمام شیعوں کو میری نصیحت ہے کہ وہ اپنی مجالس میں جتنا چاہیں محبت کا اظہار کریں مگر روحانی تعلق سے ایسا کریں تو پھر وہی روحانی تعلق کی باتیں اُن کو حضرت ابوبکر صدیق سے بھی محبت کرنے پر مجبور کر دیں گی۔تمام صحابہ کے لئے اُن کے دل میں محبت کے سوا کچھ نہیں رہے گا لیکن چونکہ جسمانی رشتہ پر زور دیا جاتا ہے اور اس پہلو سے صحابہ کو کلیتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا دکھایا جاتا ہے گویا ایک الگ قوم ہے جس کا آپ سے اور آپ کے مقاصد سے کوئی تعلق نہیں اس لئے یہ نفرتیں رفتہ رفتہ اُن کے دلوں میں جاگزیں ہوئیں اور پھر بڑھتی چلی گئیں یہاں تک کہ بعض صحابہ اُن کے ایمان کا حصہ بن گیا اور اُس نے پھر یہ رد عمل دکھایا کہ سینیوں میں بھی سپاہ صحابہ جیسی چیزیں پیدا ہوئیں۔اُن کے اعلیٰ مقاصد میں شیعوں کا خون بہانا اس طرح داخل ہو گیا جیسے اسلام کے دشمنوں کے خلاف جہاد صحابہ کے دلوں میں داخل تھا صحابہ کے دلوں میں اسلام کے خلاف تلوار اٹھانے والوں کے مقابل پر جہاد کا ایک جوش پایا جاتا تھا لیکن یہ ایک دفاعی جہاد تھا۔اس میں نفرتوں کا کوئی تعلق نہیں تھا۔یہ ان نفرتوں کے خلاف جہاد تھا جن نفرتوں کو صحابہ کا نشانہ بنایا جارہا تھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنایا جارہا