حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 11 of 24

حضرت امام حسین ؓ کا عظیم الشّان مقام — Page 11

(11) وہ سرداران بہشت میں سے ہے“۔یہ حضرت امام حسین کے متعلق حضرت مسیح موعود کا موقف ہے اور زبان، ایک ایک لفظ بتا رہا ہے کہ بچے دل کی آواز ہے جو بے ساختہ بلا تکلف دل سے بلند ہورہی ہے۔سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلب ایمان ہے اس امام کا تقوی اور محبت اور صبر اور استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کی اقتداء کرنے والے ہیں جو اسکو ملی تھی۔تباہ ہو گیا وہ دل جو اس شخص کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے۔اب دیکھیں عملی رنگ میں اس مضمون کو کہاں سے کہاں تک پہنچادیا ہے زبان کے دعووں کی بات نہیں ہورہی۔زنجیروں سے سینہ کوبی کی بات نہیں ہو رہی۔فرمایا ہے جو عمل سے اُس سے محبت کرتا ہے اور اپنے عمل سے اس کی محبت کو سچا ثابت کر دیتا ہے یعنی حسین کا رنگ اختیار کر لیتا ہے وہی سنت اپنالیتا ہے جو حسین کی سنت تھی۔فرماتے ہیں:۔کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اُس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقوی اور استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش انعکاسی کے طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحه ۵۴۵، ۵۴۴) کون کون سے ہیں۔ایمان ، اخلاق ، شجاعت یعنی بہادری تقوی یعنی خدا خوفی اور اپنی بات پر صبر کے ساتھ قائم ہو جانا اور کسی مخالفت کی پرواہ نہ کرنا۔یعنی استقامت اور محبت الہی کے تمام نقوش اپنے دل پر منعکس کرتا ہے اور انہیں اپنا لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ ایک خوبصورت انسان کا نقش اپنے اندر لے لیتا ہے۔پھر آپ فرماتے ہیں :۔یہ لوگ دنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں کون جانتا ہے اُن کی قدر مگر وہی جو انہی میں سے ہے