حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 54
106 105 طوطئے شکر شکن کے آہ وہ نغمے کہاں کون حقانی ترانے اب سنائے گا ہمیں ہے ہزار نغمہ سنج احمدیت دم بخود وجد میں اور بے خودی میں کون لائے گا ہمیں اف جگانے والے نے ملک بقا کی راہ لی دیکھئے اب کون غفلت سے جگائے گا ہمیں خار بن کر اک خلش پیدا کرے گا روز و شب پر تو تھا اس میں نور الدین عالیجاہ کا نور دین احمد والا دوبارہ کر گیا وعظ شوکت سے بھرے کہہ کر بآواز بلند احمدیت کا جہاں میں بول بالا کر گیا منکران دین کو نیچا دکھا کر چل بسا کلمه اسلام دنیا میں اونچا کر گیا ہو گئی کمزوریاں بیماریاں کافور سب درد اب اس کی جدائی کا ستائے گا ہمیں نام اچھا لے گیا اور کام اچھا کر گیا احمد والا نشان کا نام لیوا چل بسا لے کے نام اللہ کا جان مسیحا چل بسا اس کا سودا ہے کہ دیوانہ بنائے گا ہمیں کون ایسا ساغر صافی پلائے گا ہمیں کیا کہیں اس کے بچھڑ جانے کا کتنا غم ہوا اس کے پراسرار لیکچر اس کے پرتاثیر وعظ اپنے دم پر کیا بنی جب آخر اس کا آخر اس کا دم ہوا یاد کر کے دوستوں میں اک بپا ماتم ہوا بن کے سودائی پھریں گے دشت و صحرا چھانتے ایک نشہ تھا کہ جس میں چور رہتے تھے مدام روٹھ کر احباب سے وہ مست ساقی اٹھ گیا بن کے مست ساغر صہبائے باقی اٹھ گیا پر ارادت کتنے شاگرد اپنے پیدا کر گیا ره نوجوانوں کو علوم حق کا شیدا کر گیا کے بیمار محبت نرگس مستانه وار اپنے شاگردوں کو مست چشم شہلا کر گیا مرنے والے میں اثر تھا عیسوی انفاس کا زندہ جاوید اک دنیا کو زندہ کر گیا بیعت دست مسیحا کا رہا پابند وہ خوب ہی اس نے نبھایا عہد جو باہم ہوا ہاں وہ دربار خلافت کا مرید باصفا بے تکلف دوستوں کا دوست اور یاروں کا یار عامل احکام مرشد با دل خورم ہوا بینوا کہتے تھے پیدا اک نیا حاتم ہوا