حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 55 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 55

108 107 مبتلاؤں کا انہیں اور درد مندوں کا دوستوں کے درد وغم میں وہ شریک غم ہوا ان فضائل کا شرف ہے آج باغ خلد میں شکوه و شوکت و اجلال سے ویلکم ہوا حافظ حق آشنا اب امن و راحت میں رہو جنت الفردوس میں اور قصر جنت میں رہو درس قرآن یاد آتا ہے تمہارا کیا کہیں آه انداز بیاں وہ ہم جگر کی لیں خبر یا دل کو تھا میں اے اخی پیارا پیارا کیا کہیں ٹکڑے ٹکڑے دل۔جگر ہے پارہ پارہ کیا کہیں آه قرآنی معارف آه اسرار حدیث ہاتھ سے کیا دے رہا ہے دل ہمارا کیا کہیں تھا ابھی اب اک خزانہ معرفت کا ہاتھ میں لے گیا ہے ساتھ اپنے روشنی چشم دل دیکھتے ہی دیکھتے آنکھوں کا تارا کیا کہیں بس تمہارے جاتے ہی سارا سماں جاتا رہا وہ زمین جاتی رہی وہ آسماں جاتا رہا جب تمہاری مرگ بے ہنگام کی پہنچی خبر تار کا پیغام بھیجا خطہ کشمیر سے حضرت والا کے دل پر کیا ہوا اس کا اثر آہ رخصت ہو گیا اسلام کا اک نام ظل نور الدین تھا اور پیکر عبدالکریم رہنمائے احمدیت دین حق کا راہبر احمدیت پر بھی اور اسلام پر اس کی وفات اس مصیبت کا غم و اندوہ مٹ ایک صدمہ ہے بڑا اک حادثہ دشوار تر سکتا نہیں سانحہ یہ نقش ہو گا لوح دل پر عمر بھر دل میں اٹھتا ہے کہ چل کر خطہ کشمیر سے بیٹھ جاتا ہے یہ دل آفت کا مارا کیا کہیں اڑ کے جا پہنچیں کہیں روشن علی کی نعش پر موسم گرما کی تابش اس کی مانع ہو گئی کیوں نہ ہو تم تھے مرید خاص اور استاد بھی یاد رکھنا ہم تمہارے یار تھے غم خوار تھے ان کے جسم پاک پر موسم نہ کر جائے اثر ہاں ارادت مند بھی اور صاحب ارشاد بھی ہمارے غم رہا تھے یار تھے دلدار تھے کچھ نہیں کہنے کے لائق ماجرائے درد دل دل میں گھٹ کر رہ گیا افسانہ سارا کیا کہیں وہ ہجوم عاشقاں علم و قرآن و حدیث بزم مستان الہی کا نظارہ کیا کہیں