حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 53
104 103 یاد ہیں ہم کو عناول کی ترنم ریزیاں اور مرغان چمن کی ہر طرف نو خیزیاں شبکه برگ گل پہ شبنم کی تھیں عنبر ریزیاں بہر استیصال غم باد صبا کی تیزیاں ایک جھونکے میں فنا باد خزاں نے کر دیا آپ کو ہم سے جدا اس آسماں نے کر دیا وہ تری طرز ادا۔رنگیں بیانی یاد ہے وہ ترا تقوی تری قرآن دانی یاد ہے جلسہ سالانہ پر شیریں بیانی یاد ہے یاد ہے وہ اسلام کے لیڈر کے ثانی یاد ہے آه! اب تو خواب کا عالم ہی آتا ہے نظر تیری شمع زندگی کا آ گیا وقت سحر ہاں مگر جانا بھی ہے پھر ہم سے ملنے کی دلیل یعنی اگلی زندگی ہو گی پنپنے کی دلیل جذب پانی ہے زمیں سے پھر نکلنے کی دلیل اور ہونا بند غنچے کا ہے کھلنے کی دلیل شرط یہ ہے کہ دعا کرنا ہمارے واسطے سلسبیل موت میں بہنا ہمارے واسطے الفضل ۲۳ / جولائی ۱۹۲۹ء ص ۲) مکرم مولوی محمد ایوب صاحب ثاقب میرزا خانی نے آپ کا مرثیہ دد کہتے ہوئے یوں لکھا قلزم علم شریعت اور دریائے علوم اس کے سینہ میں نہاں لولوئے لالائے علوم علوم کشور علم الہی میں سکندر کی مثال اور دانائے علوم پاک دارائے علوم اس کے ہاتھوں میں مزین خاتم علم و ادر وہ سلیمان کی طرح فرماں فرمائے چشم دل پر نور اس کی گو بصارت تھی ضعیف گوش ہوش اس کے تھے گویا چشم بینائے علوم کان کے رستہ سے اس نے پی لئے علم و ادب کیا کہوں سن سن کے اس نے کس طرح کھائے علوم موتیوں سے بھی گراں قدر اس نے پھیلائے علوم علم و فن کے لعل اگلتا تھا وہان پاک سے معدن علم و ہنر وہ مخزن فضل و کمال کتنے فاصلے ہو گئے جب اس نے بتلائے علوم عالم و فاضل پہ اس پر عامل کامل تھا وہ ایسا کامل تھا کہ اپنے علم کا عامل تھا وہ کون ایسا درس قرآن اب سنائے گا ہمیں کون اب رفق و مدار سے بٹھائے گا ہمیں