حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 52
102 101 مخلص بھی تھے خلیق بھی تھے مہربان بھی ہوتے نہ تھے کسی سے کبھی بدگمان بھی تھے آپ قوم و مذہب و ملت کے رہنما تھے آپ ہر طرح سے طریقیت کے رہنما اوصاف آپ میں تھے ہزار اور بہتریں ایک ایک بات آپ کی گوہر تھی بالیقیں روئیں گے آپ کے لئے جب تک جئیں گے ہم جب تک ہے زیست یاد میں مضطر رہیں گے ہم بھولے گی آپ کو نہ کبھی وسعت جہاں مرنے کے بعد جیتی ہیں نیکوں کی نیکیاں طالب مری دعا کے یہ جملے قبول ہوں! جنت ہو اور آپ ہوں۔رحمت کے پھول ہوں“ الفضل ۱۲؍ جولائی ۱۹۲۹ ، ص ۲) محترم ملک عبدالرحمان صاحب خادم مرحوم نے آپ کی وفات پر یوں صدمہ کا اظہار کیا۔ہر طرف ہے آج کیوں رنج والم کا ہی سماں؟ آج کیوں تاریک ہے نظروں میں یہ سارا جہاں؟ کس کی فرقت کا ہے غم ہر اک کے سینہ میں نہاں ! کیوں ہماری بے کسی پر رو رہا ہے آسماں؟ آہ کیوں آتے نہیں ہم کو نظر روشن علی؟ ایک پل میں چل دیئے ہائے! کدھر روشن علی؟ اے علمبردار وحدت! حامی دین متیں! اے سراپا علم! تلمیذ رشید نور دیں ایک تو تھا محبط انوار رب العالمیں ایک تو تھا مشعل علم و ہدایت بھر دیں آج تیری موت نے سب کو پریشاں کر دیا حرف حرف آرزو حسرت کا دیواں کر دیا پیارے حافظ جی! ہے فرقت سخت ہم کو ناگوار ملت موعود مرسل اس لئے چشم ہر اہل بصیرت ہو گئی ہے اشکبار جوش حشت سے میں کرنے کو ہوں دامن تار تار جار ہے ہیں آپ ہم سے کس لئے منہ موڑ کر سوگوار ہے اس قدر احباب کے حلقے کو گریاں چھوڑ کر اور مقصد کچھ نہ جز تبلیغ تھا مد نظر یاد وہ دن جبکہ ہم رہتے تھے سب شیر و شکر یعنی دنیائے ہم کا ایک ہی تھا بحر و بر بلبلیں محو ترنم گرد گل ھیں بے خطر کر لیا گم دامن ظلمت میں دن کو شام نے کر دیا ہم کو پریشاں گردش ایام نے