حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 23
44 43 فساد کے درمیان اپنے آپ کو نہ ڈالیں اور جہاں دیکھیں کہ کوئی سعید آدمی ان کی بات سنتا ہے اس کو نرمی سے سمجھا ئیں آہستگی اور خوش خلقی سے اپنا کام کرتے ہوئے چلے جائیں۔“ ( بحوالہ الفضل ۲۷ / مارچ ۱۹۲۲ ص ۹) اس اقتباس میں مبلغ کے لئے جن ضروری باتوں کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے وہ بدرجہ اتم حضرت حافظ صاحب میں پائی جاتی تھیں آپ نے تبلیغ اور تعلیم کے لئے اپنے آپ کو وقف کر رکھا تھا۔اور ہر موقع ومحل میں ہر شہر اور قریہ اور ہر مذہب و ملت کے آدمیوں تک آپ نے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا۔اور اس سلسلہ میں آپ نے نہ اپنی بیماری کا خیال کیا نہ آپ سفر کی صعوبتوں سے ڈرے اور نہ کسی اور کا خیال دل میں لائے اگر ایک اخبار میں آپ نے یہ خبر پڑھی کہ حضرت حافظ صاحب پشاور میں تبلیغی فریضہ سرانجام دینے تشریف لے گئے ہیں تو چند دن کے بعد ہی آپ سنیں گے کہ آپ بنگال کا دورہ کر رہے ہیں اور وہاں سے قادیان واپس آتے ہیں پھر سندھ کے دورہ پر روانہ ہو گئے ہیں۔ہندوستان کے علاوہ آپ کو ممالک غیر میں بھی تبلیغ کا موقعہ ملا۔۱۹۲۴ء میں جب آپ یورپ کے سفر پر تشریف لے گئے تو حضور کے ارشاد کے ماتحت آپ نے عرشہ جہاز پر یہودیوں کو پیغام حق پہنچایا۔بیت المقدس میں یہودی علماء کو پیغام حق پہنچایا۔(ملاحظہ ہو الفضل ۴ ستمبر ۱۹۲۴ ص۴) قاہرہ میں خلافت کے متعلق علماء کو مسلمانوں کی غلطیاں ٹھوکر میں اور تلون بتایا اور پھر ان کے سامنے اپنا عقیدہ بڑی وضاحت سے پیش کیا۔(ملاحظہ ہو الفضل ۲ ستمبر ۱۹۲۴ ء ص ۵) شام میں آپ کو تبلیغ حق کا موقع ملا - دمشق میں کئی ایک تقاریر کیں۔اور ان سے ہر فرقہ کے علماء نے اپنی اپنی استعداد کے مطابق حظ اٹھایا - ایک تقریر کے متعلق نامہ نگار الفضل لکھتا ہے کہ : سب علماء خاموش ہیں۔سب امراء اور شرفاء ہمہ تن گوش ہیں۔تین گھنٹے ہو چکے ہیں۔اکثر لوگ کھڑے تقریریسن رہے ہیں۔“ ( الفضل ۶ ستمبر ۱۹۲۴ ء ص ۶) دمشق اور قاہرہ میں آپ انفرادی طور پر بھی رؤساء اور علماء سے ملے اور انہیں تبلیغ حق کی انگلینڈ میں آپ نے ویمبلے کا نفرنس کے موقعہ پر تصوف کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے اہل یورپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قبول کرنے کی دعوت دی۔چند انگریزی الفاظ اور ہاتھوں کے بعض اشاروں کی مدد سے آپ نے انگریز تعلیم یافتہ طبقہ کو خدا تعالیٰ کے مامور کا پیغام پہنچا۔پیرس میں نہ صرف آپ نے یہودیوں، عیسائیوں ، چینیوں، دہریوں مشرقی مصنفین اور مشرقی سفراء کو تبلیغ کی۔بلکہ وہاں حضرت کے ارشاد کے ماتحت تبلیغی پروگرام مرتب کرنے والی ایک سب کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کی۔(ملاحظہ ہو الفضل یکم دسمبر ۱۹۲۴ء) مرکز میں آپ مرکزی مبلغ کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور تبلیغ کے سلسلہ میں آپ نے سابق صوبہ سرحد، صوبہ سندھ ، سابق صوبہ پنجاب، یو پی سی بی، برار ، اودھ ، بہار، مدراس، بنگال اور صوبہ بمبئی کے علاوہ قریباً تمام مشہور ریاستوں مثلاً