حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 22 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 22

42 41 احسان فراموشی کوئی نہیں کہ انسان اپنے چشمہ فیض کو سیر ہو جانے کے بعد بھول جائے۔نیز فرمایا کرتے کہ خدا تعالیٰ کے انعامات اور برکات کے جذب کرنے کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ انسان اپنے بڑوں کا ذکر خیر کرتا رہے اور جو خوبی اسے کسی محسن سے حاصل ہوئی ہے اس خوبی کو اس محسن کی طرف ہی منسوب کرے۔آپ درس دیتے ہوئے عربی لفظوں کے معانی بتاتے ہوئے قرآن کریم سے استشہاد پیش فرمایا کرتے اور اس کی نصیحت اپنے شاگردوں کو بھی فرماتے۔سید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے رمضان المبارک میں درس القرآن کی اختتامی دعا کے موقع پر فرمایا: حافظ روشن علی صاحب مرحوم جو ہمیشہ درس دیا کرتے تھے۔میں سمجھتا ہوں ان کا بھی حق ہے کہ احباب انہیں اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔“ الفضل ۲۷ جنوری ۱۹۳۵ء ص ۸ ) میدان تبلیغ کے کامیاب اور آزمودہ کار جرنیل : حضرت حافظ صاحب کو تبلیغ کا ایک جنون تھا۔اور تبلیغ کرتے ہوئے غیر احمدی، غیر مبائع ، ہندو، سکھ، عیسائی، یہودی غرضیکہ ہر مذہب وملت کے ماننے والوں سے نہایت اعلیٰ پیمانہ پر گفتگو کر لیا کرتے تھے۔خلافت ثانیہ کے قیام کے معا بعد حضرت حافظ صاحب نے ملک کے طوفانی دورے کر کے ایک طرف جماعت احمدیہ کے افراد کو خلاف کے ساتھ وابستہ کرنے میں عظیم تر کوششیں کیں۔اور دوسری طرف ہندوستان کے ہر مذہب و ملت کے ماننے والوں کے ساتھ احمدیت اور اسلام کی صداقت کو واضح کیا۔خدا تعالیٰ کی ہستی کو منوایا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور قرآن مجید کی شان بیان کی۔آپ جمہیر الصوت تھے۔اور خوش الحان بھی تھے۔صبر وتحمل کا مادہ آپ میں وافر پایا جاتا تھا۔فتنہ و فساد کے وقت آپ کی طبیعت میں جوش پیدا نہ ہوتا تھا۔آپ میں خوش خلقی ، خوش کلامی کی صفات اور ایک خاص قسم کا جذب اور کشش پائی جاتی تھی کہ لوگ آپ کی تقریر اور گفتگو کو نہایت توجہ اور شوق سے سنتے تھے۔اور پھر آپ کی تقریر اور گفتگو اس قدر مؤثر اور مدلل ہوا کرتی تھی کہ سامعین اچھا اثر لئے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔چنانچہ کئی دفعہ ایسا ہوا کہ ادھر آپ کسی جلسہ میں تقریر کر کے ہٹے اور ادھر بیسیوں آدمیوں نے بیعت کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ایک موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ : ہم چاہتے ہیں کہ کچھ آدمی ایسے منتخب کئے جائیں جو تبلیغ کے کام کے واسطے اپنے آپ کو وقف کر دیں اور دوسری کسی بات سے غرض نہ رکھیں۔ہر قسم کے مصائب اٹھائیں اور ہر جگہ پر نکلیں اور خدا کی باتیں پہنچائیں۔صبر اور تحمل سے کام لینے والے آدمی ہوں۔ان کی طبیعتوں میں جوش نہ ہو۔ہر ایک سخت کلامی اور گالی کوسن کر آگے نرمی کے ساتھ جواب دینے کی طاقت رکھتے ہوں۔جہاں دیکھیں کہ شرارت کا خوف ہے وہاں سے چلے جائیں اور فتنہ و