حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ

by Other Authors

Page 24 of 69

حضرت حافظ روشن علی صاحب ؓ — Page 24

46 45 کشمیر، حیدر آباد دکن، میسور، پٹیالہ وغیرہ کے کامیاب دورے کئے۔گویا آپ نے ہندوستان کے ہر کونہ میں پیغام مسیح پہنچایا۔اور سچ تو یہ ہے کہ بڑے اعلیٰ طریق سے پہنچایا۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے پنجاب کو تین تبلیغ حلقوں میں تقسیم کیا اور ان میں مبلغین کا تقرر کیا۔اور فرمایا۔ان علاقوں کی تقسیم سے یہ غرض ہے کہ آہستہ آہستہ تمام ملک کو اسی طرح تبلیغ کے لئے تقسیم کر دیا جائے جس طرح گورنمنٹ ضلع اور کمشنریاں بناتی ہے۔اور ان میں کمشنر اور ڈپٹی کمشنر مقرر کرتی ہے۔جو اپنے علاقہ کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔اسی طرح یہ مبلغ اپنے اپنے ضلع کے ذمہ دار ہوں گے۔اور ان کا فرض ہوگا کہ وہ اس مدت میں ان ضلعوں کا نقشہ بدل دیں۔الفضل ۱۶؍ مارچ ۱۹۲۲ء ص ۶) اس موقعہ پر حضور نے حافظ روشن علی صاحب کے سپر د ضلع گورداسپور کا علاقہ کیا اور فرمایا: حافظ صاحب کو گو فارغ نہیں کیا جا سکتا۔مگر ان کے ساتھ مبلغین کلاس کے طالب علم ہیں اس لئے میری عقل کہتی ہے کہ جس قدر ان کے پاس وقت ہے ایک سال میں ہی اس ضلع میں کام کر سکتے ہیں۔“ (الفضل ۱۶/ مارچ ۱۹۲۲ء ص ۶) مبلغین کے استاد : حضرت حافظ صاحب نہ صرف خود کامیاب مبلغ تھے۔بلکہ مبلغ گر بھی تھے۔تبلیغ کے میدان جہاد کے نہ صرف خود ایک کامیاب اور تجربہ کار جرنیل تھے۔بلکہ آپ جرنیل گر بھی تھے۔جماعت احمدیہ کی طرف سے قادیان میں جو سب سے پہلی باقاعدہ تبلیغی کلاس کھولی گئی۔اس کے آپ پہلے اور ا کیلے استاد مقرر ہوئے۔آپ نے اپنے طلباء کی اس طرح تربیت کی جس طرح ایک مرغی اپنے پروں کے نیچے رکھ کر اپنے بچوں کی تربیت و پرورش کرتی ہے اور حضرت حافظ روشن علی صاحب کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ جماعت احمدیہ کے تمام مبلغ بلا واسطہ یا بالواسطہ آپ کے ہی چشمہ علم سے سیراب ہوئے ہیں۔اور پھر ان کے ذریعہ اکناف عالم میں سعید روحوں کو احمدیت میں شامل ہونے کی جو توفیق ملی ہے۔اس کا ثواب صدقہ جاریہ کے طور پر یقینا آپ کو پہنچ رہا ہے۔آپ کے تیارہ کردہ شاگردوں میں سے ایسے قابل اور فتح نصیب جرنیل پیدا ہوئے جنہوں نے تبلیغی جہاد کے ہر میدان میں کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کر کے آپ کے سر کو ہمیشہ ہی بلند رکھا۔اور اپنی ان بے مثال سرگرمیوں کی وجہ سے آپ کے دو عظیم شاگردوں یعنی مولانا جلال الدین صاحب شمس اور مولانا ابو العطاء صاحب جالندھر کو جنہیں آپ کی زندگی میں آپ کی توجہ کا وافر حصہ ملا۔” خالد کے قابل قدر خطاب سے نوازا گیا۔(الفضل ۱۵ مارچ ۱۹۵۷ء) یہ بات قابل ذکر ہے کہ مبلغین کی ایک کلاس عارضی طور پر ۱۹۱۴ء میں بھی جاری کی گئی تھی جس میں تعلیمی قابلیت کا کوئی معیار نہ تھا۔اس تبلیغی کلاس کی