حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓ — Page 9
15 14 کرتے۔جب آپ کو دوست منع کرتے تو فرماتے بیماری میں آدمی کا دل نرم ہوتا ہے۔اور جہاں تک بیماری کا تعلق ہے کیا اللہ تعالیٰ مجھے اس بیماری میں مبتلا کر دیگا؟ بے فکر ر ہیں۔جیل کے قیام کے دوران آپ کے ذریعہ پچاس لوگ احمدیت میں داخل ہوئے۔اسی طرح ایک دوست بٹالہ کے تھے انہوں نے چوہدری صاحب سے ایک دفعہ پوچھا کہ آپ اتنے مطمئن کیسے ہیں۔چوہدری صاحب نے بتایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بشارت دی ہے کہ بخیر و عافیت جیل سے رہا ہو جاؤ گے۔اس پر اس شخص نے کہا کہ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی ایسا اطمینان بخش نظارہ دکھائے۔چوہدری صاحب نے دعا کرنے کا وعدہ کر لیا۔چند دن بعد اس شخص نے رویاء میں دیکھا کہ وہ پاکستان چلے گئے ہیں اور جیل کے دروازے کھل گئے ہیں رشتہ دار لینے آئے ہیں اور مٹھائیاں تقسیم ہو رہی ہیں۔اس کے بعد وہ دوست بھی احمدی ہو گئے۔چوہدری صاحب کی شخصیت کا غیر احمدی قیدیوں پر بہت اثر تھا۔آپ نے انہیں اپنی ایک اور رویا بتائی کہ آموں کے موسم میں وہ رہا ہو جائیں گے۔وہ لوگ بہت حیران تھے کہ کس طرح ایک شخص اتنے یقین سے اپنے رویاء کی بناء پر کہہ سکتا ہے کہ وہ ان کے ساتھ آموں کے موسم میں رہا ہو جا ئینگے حالانکہ حالات نہایت ہی خطر ناک تھے اور یہی سمجھا جاتا تھا کہ تمام قیدیوں کو اذیتیں دے کرموت کے گھاٹ اتار دیا جائیگا۔لیکن تعجب کی بات ہے کہ جب دونوں حکومتوں نے قیدیوں کا تبادلہ منظور کیا تو اس کے لئے کئی تاریخیں مقرر کی گئیں مگر جب تک آموں کا موسم نہ آیا وہ تاریخیں تبدیل ہوتی رہیں۔چنانچہ جب ۷، اپریل 1948 ء کو اس خواب کے مطابق سارے قیدی رہا کر دئیے گئے تو ان میں سے 54 لوگوں نے بیعت کر لی۔اسی قید کے دوران چوہدری صاحب کی سیرت کا ایک اور روشن پہلو شفقت علیٰ خلق اللہ اس طرح سامنے آیا کہ آپ خود قیدیوں کا خیال رکھتے۔اگر کوئی قیدی بیمار ہو جاتا تو اسے چائے وغیرہ بنوا کر دیتے اور دوا کا انتظام کرواتے اور دودھ وغیرہ کا انتظام بھی کرتے۔چوہدری صاحب تقریبا چھ ماہ اور چھبیس دن جیل میں رہے اور بہت سی پیاسی روحوں کو احمدیت کے آب حیات سے سیراب کرنے کے بعد بفضلِ اللہ تعالیٰ باعزت بری ہوئے۔حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب کی سیرت کا مطالعہ ہی ظاہر کرتا ہے کہ چوہدری صاحب ایک خدا رسیدہ انسان تھے۔نمازوں کی پابندی کرنے والے۔تہجد گزار اور نوافل کے پابند تھے۔جوانی کے زمانے میں نماز کی پابندی کی وجہ سے کالج والوں میں آپ " لوٹے اور جائے نماز والا چوہدری " کے نام سے مشہور تھے۔آپ کو اللہ تعالی کی ذات پر کامل تو کل تھا۔اپنے کام کے لئے پوری کوشش کرتے تھے۔مگر اپنی کوشش پر کامیابی کے لئے انحصار نہ کرتے تھے۔بلکہ یہ یقین رکھتے تھے کہ اللہ تعالی کو اگر منظور ہوگا تو کام ہو جائے اور کوشش کے ساتھ ساتھ دعاؤں میں لگے رہتے۔حضرت چوہدری صاحب نے وطن کی خدمت میں سیاسی کردار بھی ادا کیا