حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓ — Page 8
13 12 (۱۵) ۱۹۵۰ ء ریٹائر ہوئے (۱۶) ۱۹۵۴ء تا ۱۹۶۰ ء ناظر اصلاح وارشاد حضرت چوہدری صاحب نے ان تمام عہدوں پر فائز ہو کر ایک چست سپاہی کی مانند اپنے فرائض سرانجام دیئے۔آپ ایک وسیع تجربہ رکھنے والے انسان تھے۔انگلستان کے علاوہ آپ کو مصر فلسطین اور دمشق، جنوبی افریقہ میں کیپ ٹاؤن اور ڈرین کے سفروں کا بھی موقع ملا۔ان سفروں کے دوران اللہ تعالی نے آپ کو حج بیت اللہ کا بھی موقع عنایت فرمایا۔چوہدری صاحب کی زندگی میں جو وصف ابھر کر سامنے آتا ہے وہ آپ کی دعوت الی اللہ ہے۔آپ مجسم دعوت الی اللہ تھے ، آپ کو نہ دھوپ کی پرواہ تھی نہ بارش کی ، نہ بھوک اور نہ پیاس کی بس ایک ہی لگن اور شوق تھا اور وہ یہ کہ دعوت الی اللہ کی جائے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو جماعت احمدیہ میں شامل کیا جائے۔اس سلسلہ میں چوہدری صاحب نے بہت کام کیا اور کئی ایک جماعتیں قائم کیں۔چونکہ آپ ناظر (اصلاح وارشاد ) بھی تھے اس لئے آپ خود مختلف جماعتوں کے دورے کرتے اور لوگوں کو دعوت الی اللہ کے میدان میں اترنے کی تحریک فرماتے اسی سلسلہ میں آپ نے مختلف مقامات پر متعد دلیکچر ز بھی دیئے۔آپ کو دعوت الی اللہ کا اتنا شغف تھا کہ ہر ایک کو دعوت الی اللہ کرتے۔حضرت چوہدری صاحب 1947 ء میں پنجاب اسمبلی ہندوستان کے رکن بھی رہے۔آپ تند ہی سے وطن کی خدمت کر رہے تھے کہ 12 ستمبر 1947ء کو ایک جھوٹے قتل کے الزام میں آپ کو گر فتار کر لیا گیا اور بعض اور دوستوں کے ساتھ آپ کو قید و بند کی مشکلات سے گزرنا پڑا۔اس دور اسیری میں آپ کی شخصیت کے کئی پہلو واضح ہو کر سامنے آئے۔جیل میں بھی آپ احمدیوں کے امیر اور امام الصلوۃ تھے۔آپ روزانہ بعد فجر درس قرآن دیا کرتے تھے۔آپ نے ہر قسم کے مصائب صبر وشکر سے جھیلے۔آپ کے خدا تعالیٰ سے خاص قرب اور تعلق کے نشان ظاہر ہوئے۔جیل میں بھی آپ کو اپنے سے زیادہ قادیان کی فکر تھی۔وہاں بھی آپ قادیان کی حفاظت کے لئے دعاؤں میں مصروف تھے۔چوہدری صاحب نے دعوت الی اللہ کو جیل میں بھی جاری رکھا اور کئی بیعتیں کروا ئیں۔ایک دفعہ ایک شخص کے بارہ میں سب نے فیصلہ کیا کہ وہ کبھی شرارت سے باز نہیں آتا اس لئے اس کو کوئی منہ نہ لگائے۔حضرت چوہدری صاحب نے فرمایا نہیں، ایک کام تم سب اپنے ذمہ لے لوتم دعا کرو اور میں اس کو دعوت الی اللہ کرتا ہوں یا تم اس کو دعوت الی اللہ کرو میں اس کے لئے دعا کرتا ہوں اس طرح اس کو چھوڑ نا مناسب نہیں اس پر اتمام حجت کر کے چھوڑو۔آپ کو اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین تھا، بار با دعوت الی اللہ کرنے کے لئے چوہدری صاحب متعدی بیماروں میں جا بیٹھتے کہ جن سے بیماری پھیلنے کا خطرہ ہوتا ہے۔آپ انہیں دعوت الی اللہ الی