حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓ — Page 10
17 16 جس کا آغاز 1935ء میں ہوا جب آپ نے پنجاب اسمبلی میں ممبر شپ حاصل کرنے کے لئے الیکشن میں حصہ لیا اور فتحیاب ہوئے۔یہ فتح صرف چوہدری صاحب کی فتح نہ تھی بلکہ ایک لحاظ سے احرار کے مقابلہ پر احمدیت کی فتح بھی تھی کیونکہ احمدیوں کے علاوہ دیگر لوگوں نے بھی حضرت چوہدری صاحب کو ہی ووٹ دیا اور اس طرح احراریت کو مسترد کر دیا گیا۔چوہدری صاحب ایک غیور انسان تھے الیکشن کے دنوں میں آپ تحصیل بٹالہ کے ایک رئیس سردار مالک سنگھ کے پاس امداد حاصل کرنے کے لئے گئے تو اس نے کورا جواب دے دیا۔اس پر آپ نے فرمایا ہماری کامیابی کا انحصار آپ کی امداد پر نہیں ، اصل کامیابی تو اللہ کی مدد سے حاصل ہو گی تم بیشک پورے زور سے ہماری مخالفت کرو! اگر خدا کی طرف سے ہمارے لیے کامیابی مقدر ہے تو نہ تمہاری امداد مجھے کامیاب کروا سکتی ہے اور نہ مخالفت نا کام کر سکتی ہے۔چوہدری صاحب کو قرآن مجید سے بھی عشق کی حد تک تعلق تھا۔ایک دفعہ آپ کے گھر چوری ہو گئی جس کی خبر آپ کو نہ ہوئی بعد فجر آپ نے درس قرآن دینا شروع کر دیا اندر سے بیگم صاحبہ نے آپ کو چوری کی اطلاع دی مگر آپ بدستور درس میں منہمک رہے۔پھر دوبارہ اطلاع دی گئی تو آپ نے فرمایا میں کیا کروں۔چوہدری صاحب درس میں اتنے محو تھے کہ سامان کی فکر ہی نہ کی۔اللہ تعالی کا ایسا فضل ہوا کہ بعد میں آپ کو چوری شدہ سارا سامان مل گیا۔چوہدری صاحب کی زندگی نہایت سادہ تھی ، آپ ہر قسم کا کھانا کھا لیتے کوئی تکلف نہ کرتے۔ایک دفعہ ایک گاؤں میں گئے تو گاؤں والوں نے خاطر تواضع کی اور کہا ہم آپ کو دودھ پلا دیتے ہیں مگر اس میں جاگ لگادی ہے۔چوہدری صاحب فرمانے لگے جاگ ہی لگائی ہے زہر تو نہیں ڈالا تم لے آؤ کوئی بات نہیں۔اسی طرح آپ لباس بھی سادہ زیب تن فرماتے اور مخاطب کی طبیعت کے مطابق کلام کرتے۔کسی گاؤں میں جا کر جب تقریر کرتے تو دیہاتیوں کی سمجھ کے مطابق عام فہم اور بالکل سادہ الفاظ میں ایسی تقریر کرتے کہ بچوں اور بوڑھوں تک کو آپ کا مضمون یاد ہو جاتا۔اگر چہ چوہدری صاحب بہت تعلیم یافتہ تھے اور بڑے زمیندار تھے اور دنیاوی لحاظ سے ایک مقام رکھنے والے تھے اور جماعتی لحاظ سے ایک انتہائی اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے مگر اس کے باوجود اپنے غریب ساتھیوں سے اس طرح ملتے اور باتیں کرتے تھے کہ جس طرح دو برابری کے دوست با ہم بے تکلف ہوتے ہیں۔اور ایک دوسرے کا حال دریافت کرتے ہیں۔یہاں تک کہ ان کی چھوٹی چھوٹی باتیں اور مسائل بھی دریافت کرتے اور ان کے حل کے لئے مناسب مشورہ بھی دیتے اور اپنی طرف سے ہر ممکن امداد بھی کرتے تھے۔چوہدری صاحب بہت فراخ دل، حوصلہ مند اور مہمان نواز تھے۔آپ کی انکساری اور مہمان نوازی اس حد تک ہوتی کہ اس خدمت پر مہمان بھی شرما جاتا۔اگر کسی مہمان کی تکلیف کا علم ہوتا تو آپ کو بہت دکھ ہوتا۔آپ اپنے ساتھی کارکنان کو ہمیشہ نصیحت فرماتے کہ حضرت