سوانح حضرت علیؓ — Page 2
1 پیش لفظ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آنحضرت ﷺ کے چوتھے خلیفہ راشد تھے۔رشتہ میں آپ حضورﷺ کے چازاد بھائی ، اور داماد تھے۔آپ نیکی ، زہد، تقویٰ اور انکساری جیسے اعلیٰ خصائل کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجہ کی قائدانہ صلاحیات کے حامل تھے۔آپ آنحضرت ﷺ اور آپ کے تینوں خلفاء راشدین سے محبت ، عقیدت اور وفا کا تعلق رکھتے تھے۔اللہ کرے ہم سب اپنے بزرگان سلف کے اوصاف کو اپنانے والے ہوں اور کامیاب زندگی گزارنے والے ہوں۔آمین بسم الله الرحمن الرحيم حضرت علی رضی اللہ عنہ نام ونسب ، خاندان اور پیدائش آپ کا نام علی تھا۔کنیت ابوالحسن و ابوتر اب اور لقب حیدر تھا۔آپ کے والد بزرگوار کا نام ابوطالب اور والدہ ماجدہ کا نام فاطمہ بنت اسد تھا۔حضرت علی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچا زاد بھائی تھے۔آپ کی پیدائش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے گیارہ برس قبل ہوئی۔حضرت علی کے والدین کو یہ سعادت بھی نصیب ہوئی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش آپ کی والدہ کی وفات کے بعد اسی گھرانے میں ہوئی۔یعنی اپنے چچا حضرت ابوطالب کے پاس اور حضرت ابوطالب نے بہت محبت اور شفقت کے ساتھ اپنے بھتیجے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی اور اپنی وفات تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جہاں تک ممکن ہوسکا ساتھ دیا اور کفار کے بالمقابل ہرا ہم موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سینہ سپر رہے۔ایسا ہی حضرت فاطمہ بنت اسد نے بھی ماں کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پرورش کی۔روایات کے مطابق حضرت فاطمہ بنت اسد نے اسلام قبول کر لیا تھا اور مدینہ ہجرت بھی کی اور وہیں انتقال فرمایا۔ان کے انتقال پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص مبارک انہیں پہنائی اور خود قبر میں لیٹ کر قبر کو متبرک کیا۔لوگوں نے پوچھا تو فرمایا کہ ابو طالب کے بعد میں اس نیک سیرت خاتون کا ممنون احسان ہوں۔(اسد الغابہ) یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا بچپن تو حضرت ابوطالب کی