سوانح حضرت علیؓ — Page 3
3 2 کفالت میں گزارا۔لیکن حضرت علیؓ کی پیدائش کے بعد حضرت ابوطالب کے مالی حالات کو اور اس دوران جب مسلمان ابھی چھپ چھپ کر عبادت کیا کرتے تھے تو حضرت علی بھی دیکھتے ہوئے ان کے بیٹوں کو آپ کے دوسرے قریبی رشتہ داروں نے پرورش کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس عبادت میں مصروف ہوتے۔ایک روز حضرت اپنے پاس رکھ لیا۔چنانچہ حضرت عباس نے جعفر کی کفالت اپنے ذمہ لی اور حضرت علیؓ کی ابوطالب نے حضرت علی کو عبادت کرتے ہوئے دیکھ کر پوچھا تو حضرت علی نے اپنے قبول اسلام خوش نصیبی یہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کفالت کے لیے اپنے پاس رکھ لیا۔کا تذکرہ کیا۔اس پر حضرت ابو طالب نے فرمایا کہ بیٹا! محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) جو کہتا ہے وہ صحیح (زرقانی جلداول) ہے اور تم اس کی بات پر عمل کرو کوئی حرج نہیں۔شرف اسلام حضرت علی دس سال کی عمر کے تھے کہ انہوں نے حضرت خدیجہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عبادت میں مصروف دیکھا۔عبادت (اسدالغابہ) بچپن کے اس زمانے میں حضرت علی کا ایک واقعہ تاریخ میں ہمیشہ یا درکھا جانے والا کے اس طریق نے حضرت علی کے دل پر گہرا اثر کیا۔آپ نے حیرت و استعجاب کے رنگ ہے جو بچوں اور نوجوانوں کے لیے قابل رشک ہے۔میں پوچھا کہ آپ کیا کر رہے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم پر اپنے تمام رشتہ داروں کو تبلیغ کے آگاہ کیا تو حضرت علیؓ نے بھی آپ کے اس طریق عبادت اور مذہب کو قبول کر لیا۔اس لیے اکٹھا کیا اور ایک دعوت کا اہتمام کیا۔اس دعوت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طرح بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے حضرت علی تھے۔آپ کی عمر اس عزیز و اقارب میں سے کم و بیش چالیس افراد شامل تھے۔جن میں حضرت حمزہ ، حضرت وقت دس برس تھی۔اسلام قبول کرنے کے بعد حضرت علیؓ نے مکی زندگی اور ایک تاریخی عہد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ میں تیرہ سال گزارے اور بچپن سے گزرتے ہوئے نو جوانی کی عمر کو پہنچے۔اس عرصہ میں آپ کی خوش نصیبی یہ رہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت آپ کو مستقل نصیب رہی۔کفار و عباس ، ابوطالب اور ابولہب وغیرہ بھی شامل تھے۔آپ نے سب کو مخاطب ہو کر فرمایا: ”اے بنو عبدالمطلب ! خدا کی قسم میں تمہارے سامنے دنیا و آخرت کی بہترین نعمت پیش کرتا ہوں ، بولو تم میں سے کون اس شرط پر میرا ساتھ دیتا ہے کہ وہ میرا معاون و مددگار ہوگا۔“ اس کے جواب میں سارے خاموش رہے۔محفل پر سکوت طاری تھا۔کسی کو بھی یہ توفیق مشرکین کی مجالس میں عموماً حضرت علی بھی آپ کے ساتھ ہوتے۔ایک روایت میں حضرت نہ مل سکی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید میں کوئی لفظ کہہ پاتا۔یہ عالم دیکھ کر حضرت علی علی خود اس زمانے کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کھڑے ہوئے اور یوں کہنے لگے: یچھے پیچھے اس طرح رہتا تھا جس طرح اونٹنی کا بچہ اونٹنی کے ساتھ ساتھ رہتا ہے اور اگر چہ کم عمری کے باعث آپ کوئی اہم کا رنامہ یا خدمت تو سرانجام نہ دے سکتے تھے لیکن سب سے اہم اور قابل ذکر بات یہی ہے کہ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مستقل صحبت میسر رہی۔گو میں عمر میں سب سے چھوٹا ہوں اور میری آنکھیں بھی دکھتی ہیں اور 66 میری ٹانگیں پتلی ہیں تا ہم میں آپ کا معاون ہوں گا اور دست و باز و بنوں گا۔“ (طبری۔مسند احمد بن حنبل)