سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 7
11 10 66 سوار بھیج کر پکڑ لیں گے اس لیے آپ نے ایک ایسا راستہ لیا جہاں لوگوں کا آنا جانا بہت تک پہنچ گئے ہیں۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو تسلی دی اور فرمایا: ” فکر نہ کرو، ور نہ کم تھا اور غار ثور کی طرف چل پڑے۔غار ثور مکہ کے جنوب کی طرف ہے اور یثرب اللہ ہمارے ساتھ ہے۔“ اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے شمال کی طرف۔کافروں کو آپ کے اس راستہ پر چلنے کا خیال نہ آسکتا تھا۔غار ثور پہنچ حضرت ابوبکر کو ”ثانی اثنین “ یعنی دو میں سے دوسرا کہا ہے۔کر حضرت ابو بکر نے غار کو صاف کیا اور پھر حضور اندر گئے۔تھوڑی دیر کے بعد حضور آخر چوتھے روز دونوں غار سے باہر آئے اور حضرت ابوبکر کے بیٹے سے دونوں آرام کرنے کے لیے حضرت ابوبکر کے رانوں پر سر رکھ کر لیٹ گئے۔حضور سور ہے اونٹ لے کر یثرب کی طرف چل پڑے۔کئی دن چلنے کے بعد آپ میٹر ب سے دو تین تھے کہ ایک سوراخ سے ایک سانپ باہر نکلا ، حضرت ابوبکر نے اسے مارنے کے لیے میل پہلے قبا کے مقام پر پہنچ کر ٹھہر گئے۔سارا راستہ حضرت ابوبکر حضور صلی اللہ علیہ اس کے سر پر اپنا پیر رکھ دیا۔سانپ نے آپ کے پیر پر کاٹ لیا۔حضور کے آرام کے وسلم کی خدمت کرتے آئے تھے اور حفاظت کے خیال سے کبھی آپ سے آگے نکل خیال سے آپ اسی طرح بیٹھے رہے اور ذرا نہیں ہلے لیکن درد اتنی تھی کہ آنسو نکل جاتے کبھی آپ کے پیچھے دیکھتے رہتے کہ کوئی پیچھا کرنے والا نہ آرہا ہو۔کبھی رسول پڑے۔ایک آنسو حضور کے چہرہ پر ٹپکا جس سے حضور کی آنکھ کھل گئی۔پوچھا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے آپ سو جائیں اور خود پہرہ دیتے۔حضرت ابوبکر چونکہ ابو بکڑا کیا بات ہے؟ کہنے لگے سانپ نے کاٹ لیا ہے۔حضور نے اسی وقت اپنے منہ تجارت کے لیے سفر کرتے رہتے تھے اس لیے بہت سے لوگ انہیں جانتے تھے۔راستہ کا لعاب اس جگہ پر لگا دیا جس سے درد کم ہو گیا۔میں اگر کوئی ملتا اور آپ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پوچھتا کہ یہ کون ہیں تو تین دن تک حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر غار ثور میں رہے۔روزانہ آپ صرف اتنا جواب دیتے۔یہ مجھے راستہ دکھانے والے ہیں۔“ شام کے وقت حضرت ابو بکر کی بیٹی اسماء اور ان کے بھائی آپ دونوں کے لیے کھانا تیار آخر قبا پہنچ کر آپ نے آرام کا سانس لیا۔آپ کے قبائکو پینے کی خبر جلد ہی میٹرب کرتے اور عامر بن فہیرہ کے ہاتھ ان کو بھجوا دیتے۔وہ بکریوں کو چرانے کے لیے غار پہنچ گئی اور لوگ آپ سے ملنے کے لیے آنے لگے۔بہت سے لوگوں نے ابھی تک ثور تک لے آتے اور ان کا دودھ دوہ کر آپ دونوں کو پیش کرتے۔قریش آپ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہوا نہیں تھا اس لیے وہ پہچان نہ سکے کہ دونوں میں تلاش کرتے رہے اور آپ کو ڈھونڈ کر لانے والے کے لیے ایک سو اونٹوں کا انعام سے اللہ کا رسول کون ہے۔جب دھوپ ذرا تیز ہوئی تو حضرت ابو بکر نے اٹھ کر آپ بھی مقرر کیا۔انعام کی لالچ میں بہت سے لوگ آپ کو ڈھونڈ نے نکل کھڑے ہوئے پر چادر کا سایہ کیا تب لوگوں نے پہچانا۔اور دو تین آدمی تلاش کرتے کرتے غار تک بھی پہنچ گئے۔غار کے اندر سے جب قبا میں حضرت علی بھی آپ سے آملے اور کچھ روز وہاں ٹھہرنے کے بعد آپ یثرب حضرت ابو بکر کو ان کے پاؤں نظر آئے تو آپ گھبرائے اور کہنے لگے: " کا فر تو ہم چلے گئے۔آپ کے وہاں آنے کے بعد میٹر ب کو مدینة النبی یا مدینہ کہا جانے لگا۔جب 66