سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 6 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 6

9 8 زیادہ لوگوں کو لے کر آپ سے ملے اور مسلمان ہو کر آپ کو دعوت دی کہ آپ ان کے لگ گیا تو وہ حملہ کر کے آپ کو چھڑا لیں گے یہ تجویز نہ مانی گئی۔دوسرے نے کہا کہ پاس میثرب چلے آئیں اور وعدہ کیا کہ وہ آپ کی پوری حفاظت کریں گے۔مگر آپ کو آپ کو مکہ سے نکال دیا جائے۔یہ بھی اس لیے نہ منظور کی گئی کہ اس طرح تو آپ کی تبلیغ ابھی تک خدا نے حکم نہ دیا تھا اس لیے آپ خود تو ٹھہرے رہے باقی مسلمانوں کو میٹرب سے عرب کے باقی لوگ بھی مسلمان ہو سکتے تھے۔آخرا ابو جہل نے کہا کہ آپ قومی مجرم جانے کی اجازت دے دی۔کافروں کی مار پیٹ سے ستائے ہوئے مسلمان یثرب ہیں اس لیے آپ کو مار دیا جائے۔فیصلہ یہ ہوا کہ قریش کے ہر خاندان سے ایک ایک جانے لگے۔حضرت عمر اور دوسرے صحابہ بھی میٹر ب چلے گئے اور مکہ میں رسول کریم صلی آدمی لیا جائے جو مل کر آپ کو قتل کر دیں تا بنو ہاشم آپ سے قتل کا بدلہ نہ لے سکیں۔اللہ علیہ وسلم اور صرف چند دوسرے مسلمان باقی رہ گئے۔حضرت ابو بکر نے بھی اجازت اِدھر قریش یہ مشورے کر رہے تھے اُدھر دو پہر کے وقت آپ حضرت ابوبکر کے مانگی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کہا: ” ابھی نہ جاؤ شاید خدا تمہیں کوئی گھر آئے۔عام طور پر آپ صبح یا شام کو آیا کرتے تھے دو پہر کے وقت آئے تو حضرت ایسا ساتھی دے دے جو سفر میں تمہارا ساتھ دے۔‘“ حضرت ابوبکر سمجھ گئے کہ رسول ابو بکر آپ کو دیکھ کر کچھ گھبرا گئے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر آئے اور کہا کہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے ہیں۔آپ نے تیاریاں شروع کر خدا نے مجھے مکہ سے ہجرت کرنے کی اجازت دے دی ہے۔حضرت ابوبکر نے کہا کہ دیں۔دو مضبوط اونٹنیاں خرید لیں اور ان کو کیکر کی پھلیاں کھلا کر پالا تا کہ سفر کے قابل مجھے ساتھ لے چلیں۔آپ نے کہا کہ ضرور ا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جانے ہو سکیں اور ایک آدمی عبد اللہ بن اریقط کو راستہ بتانے کے لیے نوکر رکھ لیا۔کے خیال سے حضرت ابو بکر اتنے خوش ہوئے کہ رونے لگے۔حضرت عائشہ جو اس جب کافروں کو پتہ لگا کہ اب یثرب کے لوگ بھی مسلمان ہونے شروع ہو گئے وقت وہاں تھیں کہتی ہیں اس دن مجھے پتہ چلا کہ آدمی بہت خوش ہو تو بھی رو پڑتا ہے۔ہیں اور مکہ سے بھی اکثر لوگ وہاں چلے گئے ہیں تو وہ بہت گھبرائے کیونکہ میرب مکہ سے حضرت ابو بکڑ نے دونوں اونٹنیاں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھا ئیں کہ میں نے یہ شام جاتے ہوئے راستہ میں آتا تھا اور اس راستہ سے مکے والوں کے تجارتی قافلے دونوں اونٹنیاں اسی دن کے لیے پالی ہیں۔آپ نے ایک اونٹنی قیمتا لے لی۔اسی رات گزرتے تھے۔انہوں نے سوچا کہ اگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی وہاں چلے گئے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کو کافروں نے گھیرے میں لے لیا۔ان کا ارادہ تھا میثرب کے لوگ مسلمان ہو گئے تو ان کے تجارتی قافلوں کو شام جاتے ہوئے مشکل پیش کہ صبح کے وقت حملہ کر کے آپ کو قتل کر دیں گے۔آپ نے حضرت علی کو اپنی چادر آئے گی۔اس کا حل سوچنے کے لیے وہ اکٹھے ہوئے اور آپس میں مشورے کرنے اوڑھا کر اپنے بستر پر لٹا دیا۔قریش یہ سمجھتے رہے کہ اندر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سو لگے۔ایک آدمی نے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو پکڑ کر لوہے کی بیڑیوں سے باندھ رہے ہیں۔آپ رات کو اپنے گھر سے نکلے اور مکہ سے باہر جا کر ابو بکر کے ساتھ روانہ دیا جائے تا کہ وہ میٹرب نہ جاسکیں لیکن اس ڈر سے کہ اس طرح تو اگر مسلمانوں کو پتہ ہوئے۔میثرب کو جانے والا عام راستہ محفوظ نہ تھا اور ڈر تھا کہ اس راستہ سے قریش گھر