سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 8
13 12 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنے تو وہاں کے مسلمانوں نے آپ کا شاندار استقبال کیا۔گھر رہے۔کچھ عرصہ کے بعد آپ نے کچھ زمین خریدی جس کی قیمت حضرت چھوٹے چھوٹے بچے اور بچیاں خوشی کے ساتھ گا رہے تھے: طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوَدَاعِ ابو بکڑ نے دی۔اس پر مسجد بنائی گئی جو مسجد نبوی کہلاتی ہے۔مسجد کے ارد گرد حضور اور آپ کے ساتھ آنے والے مسلمانوں کے گھر بنائے گئے۔یہ مکان مٹی اور پتھر کے کہ وداع کی گھائی سے ہم پر چودھویں کا چاند نکلا ہے۔اور اونچی اونچی کہتے بنے ہوئے تھے اور چھت کھجور کی شاخوں اور پتوں کی ہوتی تھی۔ابھی مسجد کے قریب جاتے تھے: اللہ کے رسول آگئے۔اللہ کے رسول آگئے۔والا مکان بنا نہیں تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھجوا کر مکہ سے اپنے بچوں کو مدینہ کے مسلمان اس دن اس طرح خوش تھے جس طرح عید کے دن لوگ خوش مدینہ بلوایا۔ان کے ساتھ ہی حضرت ابو بکر کے بچے بھی آئے۔کچھ دن سیخ میں ہوتے ہیں۔انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے مسلمان مہاجروں کو بڑی ٹھہرے۔جب مسجد کے پاس مکان بن گیا تو وہاں رہنے لگے۔مدینہ پہنچ کر حضور صلی عزت اور خوشی کے ساتھ رہنے کے لیے جگہ دی۔اللہ علیہ وسلم اور مہاجر قریش مکہ کے ظلم سے بچ گئے تھے۔مگر قریش ان کے بچ جانے پر مدینہ پہنچنے پر حضور نے اس خیال سے کہ مکہ سے جو مہاجر آئے تھے ان میں سے سخت ناراض تھے اور اس انتظار میں تھے کہ کوئی ایسا موقع آئے کہ وہ مسلمانوں پر حملہ کر اکثر خالی ہاتھ تھے اور جائیدادیں مکہ میں ہی چھوڑ آئے تھے۔مدینہ کے مسلمانوں اور سکیں۔ان کو یہ بھی ڈر تھا کہ مدینہ میں مسلمان امن سے رہے تو ان کی تعداد بڑھتی مکہ کے مہاجروں میں سے ایک کو دوسرے کا بھائی بنا دیا۔حضرت ابوبکر کے بھائی جائے گی۔آخر قریش کو یہ موقع غزوہ بدر میں ملا۔خارجہ بن زید بنے۔آپ کا گھر مدینہ کی ایک قریبی بستی سیخ میں تھا اس لیے حضرت ابوبکر بھی وہاں ٹھہرے۔مدینہ کے مسلمانوں نے مہاجرین کی ہر طرح مدد کی تھی اس لیے وہ انصار یعنی مدد کرنے والے کہلائے۔غزوہ بدر قریش کی فوج ایک ہزار فوجیوں پر مشتمل تھی اور اس میں ایک سو گھڑ سوار اور سات سو اونٹ تھے۔ان کے مکہ سے چلنے کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی تو آپ نے ہجرت کے چند روز بعد حضرت ابو بکر" کو بخار آنے لگا۔نہ صرف آپ بلکہ اور بھی مسلمانوں کو مشورہ کے لیے بلایا۔حضرت ابو بکر اور بعض اور صحابہ نے مدینہ سے باہر کئی مہاجر بخار سے بیمار ہو گئے۔مدینہ کا موسم مکہ کے موسم سے مختلف تھا اور وہاں وبائی جا کر دشمن کا مقابلہ کرنے کی تجویز پیش کی جو آپ نے قبول فرمالی اور آپ تین سو تیرہ بخار بہت ہوتا تھا۔رسول اللہ نے دعا کی اور اس طرح مدینہ سے یہ بیماری ختم ہوئی۔مسلمان اپنے ساتھ لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔اس فوج میں صرف ستر اونٹ اور مدینہ میں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے حضرت ابوایوب انصاری کے تین گھوڑے تھے۔مدینہ سے کوئی سات منزلوں پر بحیرہ قلزم کے نزدیک ایک کنواں تھا