سوانح حضرت ابو بکرؓ

by Other Authors

Page 5 of 25

سوانح حضرت ابو بکرؓ — Page 5

7 CO 6 کافروں میں جا گھسے۔کسی کو مارا کسی کو گرایا کسی کو ہٹایا اور اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ بات مان لی اور اس کے ساتھ مکہ واپس آگئے۔ابن الدغنہ نے مکہ میں آکر اعلان کر دیا وسلم کو بچاتے اور ساتھ یہ کہتے جاتے۔" افسوس ہے تم پر ا تم اس شخص کو مارتے ہو جو کہ ابوبکر میری پناہ میں ہیں جس نے ان کو تنگ کیا ، میں اس سے لڑوں گا۔قریش نے کہتا ہے اللہ میرا رب ہے۔“ کا فراس بات پر اتنے غصہ میں آئے کہ آپ کو پکڑ کر مارنا ان کی بات مان لی اور اس طرح حضرت ابو بکر پھر مکہ میں رہنے لگے۔آپ گھر کے صحن شروع کر دیا۔اتنا مارا کہ سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا۔آپ مار کھاتے جاتے اور کہتے میں نماز پڑھا کرتے اور قرآن کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔تلاوت کے وقت جاتے۔” اے عزت و جلال والے خدا! تو بہت بابرکت ہے۔آخر آپ کے رشتہ آپ خدا کی محبت میں روتے جاتے۔آپ کی آواز بھی بہت اچھی تھی۔قریش کی داروں نے آپ کو چھڑایا۔آپ کی بیٹی حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب آپ گھر پہنچے تو یہ عورتیں اور بچے آپ کے پاس جمع ہو جاتے۔قرآن کریم سنتے اور نماز پڑھتے دیکھتے۔حال تھا کہ آپ کے سر پر جس جگہ ہاتھ لگاتے وہاں سے بال اتر جاتے۔قریش کو ڈر ہوا کہ کہیں ہماری عورتیں اور بچے بھی مسلمان نہ ہو جائیں۔انہوں نے مسلمانوں پر کافروں نے اتنا ظلم کیا اور انہیں اتنا مارا کہ وہ اپنا وطن چھوڑنے پر ابن الدغنہ سے کہا: ”ہم تمہاری وجہ سے ابو بکر کو کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن اس طرح ان مجبور ہو گئے۔چنانچہ ایک دفعہ گیارہ مرد اور چار عورتیں اور ایک دفعہ اسّی سے زائد کے قرآن کریم پڑھنے سے ہمیں ڈر ہے کہ ہماری عورتیں اور بچے بھی مسلمان ہو جائیں مسلمان مرد عورتیں اپنا وطن چھوڑ کر عرب کے ہمسایہ ملک حبشہ جو آجکل ایتھوپیا کہلاتا گے۔اس لیے تم ان کو روکو۔اگر تم نہیں روکو گے تو ہم خود روک لیں گے۔ابن الدغنہ ہے چلے گئے۔وہاں کا عیسائی بادشاہ نجاشی بہت رحمدل تھا۔اس نے انہیں پناہ دی اور آپ کے پاس آیا اور آپ کو ساری بات بتائی۔آپ نے کہا: ” میں تمہاری پناہ کے لیے امن سے رہنے کا موقع دیا۔ایک دن حضرت ابوبکر بھی کافروں کے سلوک سے تنگ تمہارا شکر یہ ادا کرتا ہوں لیکن میں یہ نہیں کر سکتا۔تم اپنی پناہ واپس لے لو۔میرے لیے آکریمن کے راستے حبشہ جانے کے لیے نکلے۔ابھی سفر کی پانچ منزلیں طے کر کے اللہ کی پناہ کافی ہے۔“ اس پر ابن الدغنہ نے اپنی پناہ واپس لینے کا اعلان کر دیا۔یہ ایک جگہ برک الغماد پہنچے تھے کہ ایک آدمی ابن الدغنہ جو قبیلہ قارہ کا سردار تھا آپ کو واقعہ نبوت کے تیرھویں سال کا ہے۔ملا۔اس نے پوچھا آپ کہاں جارہے ہیں؟ آپ نے بتایا: ” میرے لوگوں نے مجھے۔نکال دیا ہے۔اب دوسرے ملک جا کر رہوں گا تا کہ خدا کی عبادت کر سکوں۔‘ اس نے کہا: ” تم تو غریبوں اور کمزورں کی مدد کرنے والے، مصیبت زدوں کے ہمدرد، ہجرت تیرہ سال تک مسلمان کافروں کے ہاتھوں ہر قسم کی تکلیف اٹھاتے رہے۔اس مہمانوں کی خدمت کرنے والے ہو تمہیں کوئی کس طرح اپنے گھر سے نکال سکتا ہے۔دوران ایک دفعہ حج کے موقع پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میرب سے آئے میرے ساتھ واپس چلو۔میں تمہیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔آپ نے ابن الدغنہ کی ہوئے کچھ حاجی ملے۔آپ نے انہیں اسلام کا پیغام پہنچایا۔اگلے حج کے موقع پر وہ