حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ

by Other Authors

Page 6 of 11

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ — Page 6

9 8 کیا کہتے ہیں جس کے آپ ماننے والے ہیں؟ نجاشی نے مسلمانوں کو پھر بلوایا اور پوچھا کہ مسیح کے بارہ میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ حضرت جعفر نے قرآن کریم میں بیان فرمودہ عقیدہ بیان کیا کہ ہمارے اعتقاد کی رو سے مسیح اللہ کا ایک بندہ ہے خدا نہیں ہے مگر وہ اس کا ایک بہت مقرب رسول ہے اور اس کے اس کلام سے عالم ہستی میں آیا ہے جو اس نے مریم پر ڈالا۔نجاشی نے فرش پر سے ایک تنکا اٹھایا اور کہا و اللہ جو تم نے بیان کیا میں اس سے مسیح کو اس تنکے کے برابر بھی بڑا نہیں سمجھتا، گو پادری جو دربار میں تھے سخت برہم ہوئے مگر نجاشی نے ان کی کچھ پرواہ نہ کی اور قریش کا وفد بے نیل مرام واپس آ گیا۔( بحوالہ سیرت خاتم النبین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے) ہجرت مدینا اور غزوات النبی میں شرکت چند سال حبشہ میں رہ کر اور وطن سے دوری کی قربانی دے کر حضرت عبد الرحمن بن عوف واپس مکہ کو لوٹے اور پھر مدینہ ہجرت فرمائی اور اس سارے عرصہ میں مقدرت کے باوجود معاندین کا مقابلہ نہ کیا اور عفو و صبر کی تعلیم پر کار بندر ہے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے دوسری ہجرت کا ثواب لیا اور انسی اُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا کی تعلیم کو سینے سے چمٹائے رکھا حتی کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جہاد کا اذن آگیا اور دفاع کی اجازت مل گئی۔غزوہ بدر ہوا اور حضرت عبد الرحمن بن عوف بڑے نمایاں طور پر اس غزوہ میں شامل ہوئے۔آپ کی ایک مشہور روایت ہے کہ میں نے جب اپنے دائیں بائیں نظر ڈالی تو انصار کے دونو عمر لڑکوں کو اپنے پہلو میں کھڑے دیکھا۔انہیں دیکھ کر میرا دل بیٹھ گیا کیونکہ دائیں بائیں کھڑے ساتھیوں کی طاقت پر اس وقت انسان کوئی کارنامہ دکھا سکتا تھا لیکن معا ایک لڑکے نے آپ سے پوچھا کہ چچا وہ ابو جہل کہاں ہے جو ہمارے رسول کو مکہ میں دکھ دیا کرتا تھا۔میں نے خدا سے عہد کیا ہوا ہے کہ میں اسے قتل کروں گا۔میں نے ابھی اس کا جواب بھی نہ دیا تھا کہ دوسرے لڑکے نے پوچھا جو پہلے نے پوچھا تھا۔میں ان دونوں لڑکوں کی جرات سے حیران رہ گیا کیونکہ ابو جہل سپہ سالا رتھا اور اس کے چاروں طرف تجر بہ کار سپاہی اور پہریدار تھے۔میں نے ہاتھ سے اشارہ ہی کیا ہوگا کہ دیکھو وہ ابو جہل ہے کہ دونوں بچے باز کی طرح جھیٹے اور دشمن کی صفیں کا لتے ہوئے ابو جہل تک جا پہنچا اور اس زور سے وار کیا کہ اس اور کاٹتے کے ساتھی دیکھتے ہی رہ گئے اور ابو جہل زمین پر گر گیا۔غرض حضرت عبدالرحمن بن عوف نے بڑے بڑے عجیب نظارے دیکھے۔غلاموں کی آزادی کا مسئلہ پیش ہوا تو عبدالرحمن بن عوف نے اپنی زندگی میں تین ہزار غلام آزاد کئے اور جہاد کے اس پہلو پر بھی عمل کر کے ثواب کمایا۔حضرت عبد الرحمن بن عوف نے جنگ احد میں بھی خاص خدمات کی توفیق پائی اور باقی غزوات النبی میں بھی۔آپ ان لوگوں میں سے تھے جو نمازوں میں آنحضرت کے پیچھے اور جنگوں میں آپ کے آگے رہتے تھے۔صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی آپ ساتھ تھے اور جن صحابہ کے معاہدہ صلح پر بطور گواہ ستخط