حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ

by Other Authors

Page 5 of 11

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ — Page 5

7 6 ہجرت کرنے والوں میں حضرت عبدالرحمن بن عوف بھی شامل تھے۔حبشہ میں عمرو بن العاص کی سرکردگی میں قریش مکہ کا ایک وفد بھی نجاشی کے دربار میں گیا تھا کہ مسلمانوں کو مظالم کا تختہ مشق بنانے کے لئے واپس مکہ لایا جا سکے لیکن وفد نا کام واپس لوٹا۔عمرو بن العاص (جو بعد میں مسلمان ہوئے اور فاتح مصر ہونے کا اعزاز پایا ) اور عبداللہ بن ربیعہ جو نو جوان قریش سردار نمائندے بن کر نجاشی کے دربار میں گئے اور تحفے تحائف بھی لے گئے اور بادشاہ کو کہا کہ ہمارے چند بے وقوف لوگوں نے اپنا آبائی دین ترک کر کے ایک نیا دین (اسلام) اختیار کر لیا ہے اور وہ نجاشی کے دین کے بھی مخالف ہیں اور ان لوگوں نے ملک میں فساد ڈال دیا ہے اور بعض بھاگ کر حبشہ آ گئے ہیں آپ انہیں واپس بھیج دیں۔نجاشی نے کہا یہ میری پناہ میں ہیں۔میں جب تک خود ان کا بیان نہ سن لوں کچھ نہیں کہہ سکتا چنانچہ نجاشی نے مسلمان وفد کو دربار میں بلوایا آنحضرت ﷺ کے چازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب نے (جو دوسرے قافلے کے ساتھ حبشہ ہجرت کر کے آئے تھے ) مسلمانوں کی نمائندگی میں کہا ”اے بادشاہ! ہم جاہل لوگ تھے، بت پرستی کرتے تھے ، مردار کھاتے تھے، بدکاریوں میں مبتلا تھے، قطع رحمی کرتے تھے ہمسائیوں سے بد معاملگی کرتے تھے اور ہم میں سے مضبوط کمزور کا حق دبالیتا تھا۔اس حالت میں اللہ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا جس کی نجابت اور صدق اور امانت کو ہم سب جانتے تھے اس نے ہم کو تو حید سکھائی اور بت پرستی سے روکا اور راست گفتاری اور امانت اور صلہ رحمی کا حکم دیا اور ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دی اور بدکاری اور جھوٹ اور یتیموں کا مال کھانے سے منع کیا اور خون ریزی سے روکا۔اور ہم کو عبادت الہی کا حکم دیا ہم اس پر ایمان لائے اور اس کی اتباع کی لیکن اس وجہ سے ہماری قوم ہم سے ناراض ہوگئی اور اس نے ہم کو دکھوں اور مصیبتوں میں ڈالا اور ہم کو طرح طرح کے عذاب دیئے اور ہم کو اس دین سے جبراً روکنا چاہا حتی کہ ہم تنگ آکر اپنے وطن سے نکل آئے اور آپ کے ملک میں آکر پناہ لی پس اے بادشاہ ہم امید کرتے ہیں کہ آپ کے ماتحت ہم پر ظلم نہ ہوگا۔“ ( بحوالہ سیرت خاتم النبین ص ۱۵۳ ۱۵۴) نجاشی اس تقریر سے بہت متاثر ہوا اور حضرت جعفر سے کہا کہ جو کلام تمہارے نبی پر اترا ہے وہ سناؤ اس پر حضرت جعفر نے سورۃ مریم کی ابتدائی آیات بڑی خوش الحانی سے پڑھیں یہ پر شوکت کلام سن کر نجاشی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے کہا خدا کی قسم یہ کلام اور ہمارے مسیح کا کلام ایک ہی منبع نور کی کرنیں معلوم ہوتی ہیں۔یہ کہ کر نجاشی قریش کے وفد کی طرف متوجہ ہوا اور کہا ” تم واپس چلے جاؤ۔میں ان لوگوں کو تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا اور ان کے تحائف بھی واپس کر دیئے۔دوسرے دن عمرو بن العاص نے ایک اور تدبیر سوچی اور نجاشی تک رسائی حاصل کر کے اسے کہا " حضور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ یہ لوگ حضرت مسیح کے متعلق