حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ

by Other Authors

Page 7 of 11

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ — Page 7

11 10 کروائے گئے ان میں بھی آپ شامل تھے۔فتح مکہ کے بعد آنحضرت نے خالد ین ولید کو جو ( مسلمان ہو چکے تھے ) ایک لشکر دے کر جذیم کی طرف روانہ کیا ، گوان لوگوں نے ہتھیار ڈال دیئے لیکن خالد بن ولید کے ہاتھوں کچھ لوگ قتل ہو گئے۔اس وجہ سے خالد بن ولید اور حضرت عبد الرحمن بن عوف کے درمیان جھگڑا ہو گیا۔جب بات آنحضرت ﷺ تک پہنچی تو آپ نے حضرت خالد بن ولید سے مخاطب ہو کر فرمایا: خالد ! تم میرے صحابہ کو مجھ پر چھوڑ دو۔خدا کی قسم ! اگر تمہارے پاس اُحد پہاڑ کے برابر سونا ہوتا اور تم اسے اللہ کے راستے میں خرچ کر دیتے تو بھی میرے ایک صحابی کے صبح کے وقت یا شام کے وقت کے جہاد کو نہیں پاسکتے۔“ دومة الجندل پر لشکر کشی (سیرت ابن ہشام جلد دوم ص ۵۱۵) آنحضرت ﷺ نے قیام امن کے لئے دومۃ الجندل پر ربیع الاول شھ (جولائی 626 ء ) میں لشکر کشی فرمائی تھی اور ان لوگوں نے اسلام کی مخالفت ترک کر دی تھی۔اور یہ لوگ اسلامی دائرہ اثر میں داخل ہو چکے تھے۔ایک حصہ اسلام کی طرف مائل تھا مگر اپنے رؤساء اور اہل قبلہ کی مخالفت کی وجہ سے جرات نہ کرتے تھے۔آنحضرت علی نے شعبان 21 دسمبر 627ء) کو اسلامی جھنڈا دے کر حضرت عبد الرحمن بن عوف کی کمان میں ایک دستہ دومتہ الجندل کی طرف بھجوایا جو شام کی سرحد کے پاس تھا اور فرمایا: ” اے ابن عوف ! اس جھنڈے کو لے لو اور پھر تم سب خدا کے رستہ میں جہاد کے لئے نکل جاؤ اور کفار کے ساتھ لڑ ویگر دیکھنا کوئی بددیانتی نہ کرنا اور نہ کوئی عہد شکنی کرنا اور نہ دشمن کے مردوں کے جسموں کو بگاڑنا اور نہ بچوں کو قتل کرنا۔یہ خدا کا حکم ہے اور اُس کے نبی کی سنت ( بحوالہ سیرت خاتم النبین یہ مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد ایم اے صفحہ 715) آپ نے حضرت عبدالرحمن بن عوف کو یہ بھی فرمایا کہ اگر وہ جنگ و جدال سے دستکش ہو کر صلح صفائی کر لیں اور اطاعت قبول کر لیں تو مناسب ہوگا کہ ان لوگوں کے رئیس (اصبغ بن عمرو کلبی ) کی بیٹی سے شادی کر لینا۔اس مہم میں آپ کے ساتھ سات سو مسلمان تھے۔چنانچہ وہاں پہنچ کر حضرت عبد الرحمن بن عوف نے حق تبلیغ ادا کیا۔شروع شروع میں تو دومتہ الجندل والے جنگ کے لئے تیار نظر آتے تھے مگر حضرت عبد الرحمن بن عوف کے سمجھانے پر ان کے ارادے بدل گئے۔ان کے حکمران اصبغ بن عمر وکلبی نے جو ایک عیسائی تھا اسلام قبول کر لیا اور اس کی بہت ساری قوم بھی اسلام میں داخل ہوگئی اور اپنے علاقے کو اسلامی حکومت کے ماتحت کرلیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف نے رئیس کی لڑکی سے شادی کر لی جن کا نام تماضر تھا اور انہیں اپنے ہمراہ مدینہ منورہ لے آئے اور آنحضرت سے ملوایا۔تماضر کے بطن سے ابو سلمہ زہری پیدا ہوئے جنہوں نے علماء اسلام میں بہت اونچا نام پایا۔