حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ — Page 4
5 4 عربوں کے غلام کہلاتے تھے لیکن قریش کے معززین بھی اسلام لانے کے بعد حقارت کی نگاہ سے دیکھے جانے لگے اور بظاہر ان کی عزتیں ختم کر دی گئیں چنانچہ حضرت عبد الرحمن عوف بھی اپنے اوپر کئے جانے والے مظالم پر باقی صحابہ کی طرح صبر کرتے چلے گئے۔آپ نے اور باقی ابتدائی صحابہ نے صبر ورضا کا ایسا نمونہ دکھایا کہ کرہ ارض پر اس سے زیادہ صبر و استقامت والا اور کوئی گروہ نہیں گزراحتی کے صلى الله آنحضرت ﷺ نے حبشہ ہجرت کی اجازت دے دی۔ہجرت حبشہ مکہ میں جو مظالم ہورہے تھے ان سے عارضی طور پر بچنے کے لئے آنحضرت نے بعض مسلمانوں کو ہجرت حبشہ کی اجازت دے دی۔حبشہ کا ملک ( ایتھوپیا یا ایسے سینیا ) براعظم افریقہ کے شمال مشرق میں واقع ہے وہاں ایک عادل حاکم اصحہ حکومت کرتا تھا جسے نجاشی کہتے تھے اور وہاں مکمل طور پر مذہبی آزادی تھی۔چنانچہ آنحضرت ﷺ نے اس ملک کی طرف ہجرت کرنے کی اجازت اس طرح دی فرمایا لَوْ خَرَجْتُمُ إِلى أَرضِ حَبْشَة فَإِنَّ بِها مَلِكًا لَا يُظْلَمُ عِنْدَهُ اَحَدٌ وَهِيَ اَرضُ صِدْقٍ حَتَّى يَجْعَلُ الله لَكُمْ فَرَحًا مِّنَّا أَنْتُمْ فِيْهِ اگر تم لوگ سرزمین حبشہ کو چلے جاؤ ( تو بہتر ہے ) کہ وہاں کے بادشاہ کے ہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا اور وہ سچائی والی سرزمین ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لئے آفتوں سے جن میں تم مبتلا ہوکوئی آسائش پیدا کر دے۔(ابن ہشام ص ۴۵۵) حضرت عبدالرحمن بن عوف سمیت مہاجرین کا قافلہ بارہ مردوں اور چار عورتوں پر مشتمل تھا یہ سب خفیہ طور پر شعیہ کی طرف روانہ ہوئے یہ واقعہ رجب ۵ نبوی (۱۶۱۵ء) کا ہے یہ لوگ پہلے جدہ کے قریب شعیہ تک پہنچے جو اس زمانے میں عرب کا ایک بندرگاہ تھا۔ان میں بعض سوار اور بعض پیدل تھے خدا نے اس وقت مسلمانوں کو توفیق عطا فرمائی اور وہ تاجروں کی دوکشتیاں لے آئے اور ان سب کو سوار کرا کے بحراحمر کے پار حبشہ کی طرف روانہ کر دیا۔ادھر قریش مکہ کو علم ہوا تو انہوں نے پیچھا کیا اور ساحل سمندر تک پہنچے لیکن کشتیاں (چھوٹے بادبانی جہاز ) روانہ ہو چکی تھیں اس لئے وہ خائب و خاسر واپس لوٹ آئے۔تاریخ اسلام میں ہجرت حبشہ کی بڑی اہمیت ہے یہ ہجرت تمام مہاجرین (بشمول حضرت عبد الرحمن بن عوف) کے لئے اپنے عقیدہ پر قائم رہنے میں نہایت درجہ اخلاص اور اس راہ میں مشکلات و نقصانات برداشت کرنے کے عزم پر ایک واضح اور روشن دلیل ہے۔اسی طرح حبشہ کی طرف دوسری ہجرت ہوئی جو چند ماہ بعد کا واقعہ ہے اور اس میں ۳۷ مرداور ۱۸ عورتیں شامل تھیں۔جب آنحضرت ﷺ نے مدینہ ہجرت کا ارادہ فرمایا تو ان میں سے ۳۲ مرد اور عورتیں مدینہ ہجرت کی غرض سے مکہ میں واپس آگئے دومرد مکہ میں فوت ہو گئے اور سات افراد مکہ میں روک لئے گئے۔حبشہ سے واپس مکہ آکر اور مکہ سے مدینہ