حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ — Page 3
3 2 زندگی گزاری اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں خدمات کی توفیق پائی۔آر صلى الله پ نے پہلے حبشہ اور پھر مدینہ ہجرت فرمائی آپ بدر، احد، خندق ، بیعت رضوان اور تمام غزوات النبی میں آنحضرت علی کے ساتھ شریک جہادر ہے۔جنگ احد میں آپ کو ۲۱ زخم آئے۔آپکے سامنے کے دورانت شہید ہو گئے۔صلح حدیبیہ کے معاہدے پر بطور گواہ جن صحابہ سے آنحضرت نے دستخط کر وائے ان میں آپ بھی شامل تھے۔آپ خدا کی راہ میں دل کھول کر مال خرچ کرنے والے تھے۔ھ میں آپ کو امیر لشکر بنا کر دومۃ الجندل کے محاذ پر بھیجا گیا۔مکہ میں ایک موقع پر حضرت عبدالرحمن بن عوف کچھ اور صحابہ کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم مشرک تھے تو ہم معزز تھے اور کوئی ہماری طرف آنکھ تک نہیں اٹھا سکتا تھا لیکن جب سے مسلمان ہوئے ہیں کمزور اور نا تواں ہو گئے ہیں اور ہم کو ذلیل ہو کر کفار کے مظالم سہنے پڑتے ہیں۔پس یا رسول اللہ ! آپ ہم کو اجازت دیں کہ ہم ان کفار کا مقابلہ کریں۔“ (سیرت خاتم النبین صفحہ 145) آنحضرت علہ نے یہ سن کر فرمایا: إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفْوِ فَلَا تُقَاتِلُوا ترجمعہ: مجھے عفو کا حکم دیا گیا ہے۔پس جنگ نہ کرو۔( نسائی بحوالہ تلخيص الصحاح جلد نمبر 1 صفحہ 152) ( مجھے اللہ تعالی کی طرف سے عضو کا حکم ہے پس میں تم کو لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔چنانچہ آپ مصائب پر صبر کرتے رہے آپ بہت کامیاب تاجر اور متمول تھے۔راہ خدا میں خرچ کرنے والے اور غلاموں کو آزاد کرنے والے تھے ایک مرتبہ ایک دن میں ۲۱ غلام خرید کر آپ نے آزاد کئے۔خلافت ثالثہ میں آپ نے ۳۲ ھ میں، سے سال کی عمر میں انتقال فرمایا اور جنت البقیع میں دفن کئے گئے۔قبولیت اسلام حضرت ابوبکر صدیق کی تبلیغ سے جو پانچ اہم شخصیات اسلام میں داخل ہوئی ان میں سرفہرست حضرت عثمان بن عفان ہیں جو خلیفہ ثالث منتخب ہوئے۔آپ کے بعد جس شخصیت کا نام آتا ہے وہ حضرت عبد الرحمن بن عوف ہیں۔آپ کی اسلام لانے کے وقت عمر تقریبا تمہیں سال تھی آپ کے علاوہ حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت زبیر بن العوام اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ کی مبارک شخصیات ہیں۔ان سب کو آنحضرت نے حضرت علیؓ اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ اور حضرت سعید بن زید اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح کے ساتھ بطور خاص جنت کی بشارت دی۔جس زمانے میں حضرت عثمان ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سعد اور حضرت زبیر اور حضرت طلحہ مسلمان ہوئے اس وقت فوری طور پر تو معاندین مکہ کا کوئی رد عمل نہیں ہوا لیکن جب اعلامیہ تبلیغ کا آغاز ہوا تو قریش مکہ نے یہ فیصلہ کیا کہ ان لوگون پر سختیاں کر کے انہیں واپس اپنے آباؤ اجداد کے دین میں داخل کریں۔اگرچہ قریش کے مظالم کا شکار زیادہ تر غریب طبقہ تھا جس میں زیادہ تر وہ لوگ تھے جو