حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ

by Other Authors

Page 2 of 11

حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ — Page 2

1 پیش لفظ حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ اسلام کے بطل جلیل تھے۔آنحضرت ﷺ کے قریبی صحابہ میں شامل تھے۔نبی کریم ﷺ سے محبت آپ کا شیوہ تھا۔آپ ﷺ کے وصال کے بعد آپ خلافت اسلامیہ حقہ سے چمٹے رہے۔آپ کو تاریخ اسلام میں ایک عظیم الشان جرنیل کی حیثیت سے بھی جانا جاتا ہے۔آپ کئی معرکوں کے فاتح تھے۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک دقیق نظر عطا فرمائی تھی۔دین و دنیا دونوں لحاظ سے ترقیات آپ کے مقدر میں لکھی جا چکی تھیں۔بلا شبہ عشرہ مبشرہ میں شامل تمام صحابہ رسول ﷺ اپنی مثال آپ تھے۔حضرت عبد الرحمن بن عوف اسلام سے قبل آپ کا نام عبد عمرو یا عبد الکعبہ تھا آپ کے والد کا نام عوف بن عبد بن حارث تھا اور والدہ کا نام شفا تھا۔21۔عام الفیل میں مکہ میں پیدا ہوئے اسلام لانے کے بعد آنحضرت نے آپ کا نام عبد الرحمن رکھا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف " تمہیں سال کی عمر میں ایمان لائے آپ قریش کے قبیلہ بن زہرہ سے تھے اسی قبیلے بن زہرہ سے آنحضرت ﷺ کی والدہ ماجدہ حضرت سیدہ آمنہ بنت وہب تعلق رکھتی تھیں۔آپ ان پانچی خوش نصیبوں میں سے تھے جو حضرت ابوبکر کی تبلیغ سے بالکل شروع شروع میں ایمان لائے تھے۔آپ کا الله شمار عشرہ مبشرہ میں ہوتا ہے۔ایک سفر میں آنحضرت ﷺ نے آپ کے پیچھے نماز بھی پڑھی تھی ایک بار آپ کو مدینہ میں امیر بھی بنایا تھا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف کی طبیعت بہت سلجھی ہوئی تھی اور آپ نہایت ذہین اور سمجھدار آدمی تھے آپ کا رنگ سرخ وسفید تھا خوبصورت اور شگفتہ چہرہ اور نازک خدو خال تھے۔آنکھیں بڑی تھیں ناک ستواں اور بلند تھی۔آپ آنحضرت ملنے کے نہایت مقرب صحابی اور مشیر تھے آپ نے بھر پور