حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 11
19 18 حضرت اقدس علیہ السلام نے مولوی صاحب کے علاج میں کثرت سے روپیہ خرچ کیا اور کوئی ایسی چیز باقی نہ رہ گئی تھی کہ جس کی نسبت خیال بھی ہو سکے کہ مولوی صاحب کے علاج کے لئے مفید ہوگی اور ان کے لئے ہم نہ پہنچائی گئی ہو اور مولوی صاحب کی یہ کیسی خوش قسمتی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے انکے لئے ہر ایک سامان بہم پہنچایا اور ان کے لئے جو کوشش کی گئی کسی راجہ یا نواب کے نصیب میں ہو تو ہو ورنہ عام امراء کے لئے بھی اس قدر کوشش ہونی محالات سے ہے اور یہ سب کچھ حضرت مسیح کی برکت سے تھا۔ورنہ مجھے خوب یاد ہے کہ ان کے والد صاحب فرماتے تھے۔اگر ہم اپنی تمام جائیداد بھی نیلام کر دیتے اور چاہتے کہ ہمارے بیٹے کا اس قدر ڈاکٹر اور حکیم علاج کرتے رہیں اور ان کی خدمت میں دن رات مصروف رہیں تو بالکل ناممکن تھا بلکہ اتنے لمبے عرصہ کے لئے ایک دفعہ دن میں بھی کسی لائق ڈاکٹر کو دکھانا مشکل تھا۔آپ مزید بیان کرتے ہیں: حضرت اقدس علیہ السلام نے حضرت مولوی صاحب کے لئے یہاں تک دعا کی کہ کئی دفعہ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے اپنی اولاد کے لئے ایسی دعا کبھی نہیں کی اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اگر تقدیر مبرم نہ ہوئی تو ٹل جائے گی۔مجھے حضرت اقدس علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے قریباً 14-13 برس کا عرصہ ہوا ہے۔اس اثنا میں مجھے کئی دفعہ بہت عرصہ حضرت اقدس کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا ہے اور بارہا میں نے حضرت اقدس السلام کے بچوں کو بہت سخت بیماری کی حالت میں دیکھا ہے۔بلکہ ایک لڑکی جس کا نام امتہ النصیر تھا وہ شیر خواری کی عمر میں بہت سے دن سخت بیماررہ کر دو تین سال کا عرصہ ہوا ہے کہ فوت ہوگئی تھی۔اکثر دفعہ ان بچوں کی سخت بیماری میں حضرت اقدس علیہ السلام اپنی اس خاص مہربانی سے جو اس عاجز پر ہے خاکسار کو علاج کے لئے لاہور سے بلوالیا کرتے تھے اور بعض دفعہ میں خود قادیان موجود ہوتا تھا۔مگر جہاں تک مجھے علم ہے میں یہ بات حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو کبھی بھی اس قدر تڑپ اور اضطراب اور خدا تعالیٰ کی جناب میں تضرع اور ابتہال نہیں ہوا جتنا کہ مولوی صاحب کی علالت پر ہوا۔ایک دفعہ مجھے خوب یاد ہے کہ صاحبزادہ میاں مبارک احمد کا بخار 106 درجہ کا ہو گیا اور اسے تشیخ شروع ہوگئی اور بیہوش ہو گیا اس وقت میں قادیان میں موجود تھا اور اس پیارے بچے کے علاج میں مصروف تھا۔۔۔حضرت اقدس علیہ السلام کو اس عزیز فرزند کی یکا یک کی ایسی سخت علالت سے بے شک بڑا اضطراب تھا اور اس کے لئے دعا میں مشغول تھے مگر مولوی صاحب کیلئے حضرت صاحب کے دل میں جو سوز و گداز اور تڑپ مشاہدہ کی وہ اس سے بدرجہا زیادہ تھی۔جو اپنے بچہ کے لئے ظہور میں آئی۔“ ( الحکم قادیان 10 فروری 1906ء) آپ کا وصال 1/11اکتوبر 1905ء کو قادیان میں ہوا۔آپ کے وصال پر مدیر اخبار بدر حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب نے لکھا: