حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ

by Other Authors

Page 12 of 16

حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓ — Page 12

21 20 حضرت مولوی صاحب کار بنکل ( کینسر ) اور اس کے عوارض سے بکتی شفا پا کر پھر ذات الجنب ( نمونیہ ) کی بیماری سے آج 11/اکتوبر 1905ء بروز 26 دسمبر 1905 - بہشتی مقبرہ کا باقاعدہ افتتاح بدھ بعد نماز ظہر قریب اڑھائی بجے اس جہان فانی سے رخصت ہوئے اور ابتداء بیماری سے 51 دن تک زندہ رہے۔اللهم اغـفـر لـه وَارْحَمهُ وعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ و اَكرِمُ مَنْزِلَهُ وَوَسِعُ مَدْخَلَهُ ـ آن مخدوم کے ایام علالت میں بلکہ اس سے بھی چند روز پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات جو وقتاً فوقتاً اخبار میں شائع ہوتے رہے۔اس دن کی پہلے خبر دیتے تھے۔جیسا کہ الہام فزع عیسیٰ ومن معه عیسی اور اس کے ساتھی فزع میں پڑ گئے۔الہام سینتالیس سال کی عمر۔انا للہ وانا الیہ راجعون“ اور الہام کفن میں لپیٹا گیا اور الہام ان الـمـنـايـا لا تطيش سهامها“۔تحقیق موتوں کے تیر روکے نہیں جاسکتے۔الہام اذا جاء افواج و سم من السماء“۔جب کہ آسمان سے فوجیں اور زہر آئی اور الہام "تؤثرون ،، حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹی کو یہ تاریخی سعادت حاصل ہوئی کہ آپ وہ پہلی ہستی ہیں جو بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی مدیر الحکم تحریر فرماتے ہیں: یہ ہفتہ (26 دسمبر 1905 ء) اسی وجہ سے بھی سلسلہ کی تاریخ میں نمایاں یادگار ہوگا کہ بہشتی مقبرہ کا باقاعدہ افتتاح 26 دسمبر 1905ء کو ہوا۔جبکہ (مومنوں) کے لیڈر مولوی عبدالکریم ( نور اللہ مرقدہ) کو اس مقبرہ میں منتقل کیا گیا۔“ الحکم قادیان 10 جنوری 1906 س2) یہ بھی اللہ کی شان ہے کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جلسہ سالانہ کا آغاز بھی 26 دسمبر کو ہی فرمایا۔الحيواة الدنيا“۔یہ تمام الہامات صریح طور پر موت کی خبر دیتے تھے اور دعا حضرت اقدس کی جنازہ میں شمولیت کا یہ اثر ہوا کہ پھر بھی خدا نے دکھا دیا کہ کار بنکل سے بالکل شفا ہوگئی اور تمام حضرت مولانا عبد الکریم صاحب نور اللہ مرقدہ وہ مبارک اور خوش بخت وجود باجود زخم اچھے ہو گئے۔مگر چونکہ الہامات مذکورہ بالا کے رُو سے تقدیر موت مبرم تھے جن کا جنازہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دو بار پڑھایا۔11/اکتوبر 1905ء کو آپ تھی۔اس لئے ایک اور بیماری لاحق ہوگئی۔یعنی ذات الجنب اور اس وجہ سے کا وصال ہوا۔اس موقع پر حضور علیہ السلام نے آپ کا جنازہ پڑھا۔آپ کے جنازہ کی 106 درجہ کا بخار ایک رات اور قریباً ایک دن رہ کر ظہر اور عصر کے درمیان دوبارہ تقریب اس وقت پیدا ہوئی جب مولانا موصوف کا تابوت مقبرہ بہشتی قادیان میں قریباً اڑھائی بجے اس جہان فانی سے رحلت فرما گئے۔“ تدفین کے لئے پرانے قبرستان سے نکالا گیا۔( بدر قادیان13 /اکتوبر 1905) حضرت مولانا عبدالکریم صاحب (نو راللہ مرقدہ) کا تابوت 26 دسمبر 1905ء