حیات طیبہ

by Other Authors

Page 27 of 492

حیات طیبہ — Page 27

27 اور کیونکر ہوتے وہ دنیوی اشغال کے لئے بنائے نہیں گئے تھے۔سچ ہے ہر کسے را بر کارے ساختند ان دنوں پنجاب یو نیورسٹی نئی نئی قائم ہوئی تھی اس میں عربی استاد کی ضرورت تھی۔جس کی تنخواہ ایک سو روپیہ ماہوار تھی۔میں نے ان کی خدمت میں عرض کی۔آپ درخواست بھیج دیں۔چونکہ آپ کی لیاقت عربی زباندانی کے لحاظ سے نہایت کامل ہے آپ ضرور اس عہدہ پر مقرر ہو جائیں گے۔فرمایا۔میں مدرسی کو پسند نہیں کرتا کیونکہ اکثر لوگ پڑھ کر بعد ازاں بہت شرارت کے کام کرتے ہیں اور علم کو ذریعہ اور آلہ ناجائز کاموں کا بناتے ہیں۔میں اس آیت کی وعید سے بہت ڈرتا ہوں۔اُحْشُرُ و الَّذِينَ ظَلَمُوا وَازْوَاجَهُمُ۔“ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کیسے نیک باطن تھے۔ایک مرتبہ کسی نے پوچھا کہ انبیاء کو احتلام کیوں نہیں ہوتا۔آپ نے فرمایا کہ چونکہ انبیاء سوتے جاگتے پاکیزہ خیالوں کے سوا کچھ نہیں رکھتے اور ناپاک خیالوں کو دل میں آنے نہیں دیتے اس واسطے ان کو خواب میں بھی احتلام نہیں ہوتا۔ایک مرتبہ لباس کے بارہ میں ذکر ہورہا تھا۔ایک کہتا کہ بہت کھلی اور وسیع موہری کا پاجامہ اچھا ہوتا ہے مرزا صاحب نے فرمایا کہ بلحاظ ستر عورت تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا اور افضل ہے اور اس میں پردہ زیادہ ہے کیونکہ اس کی تنگ موہری کے باعث زمین سے بھی ستر عورت ہو جاتا ہے۔سب نے اس کو پسند کیا۔آخر مرزا صاحب نوکری سے دل برداشتہ ہو کر استعفاء دے کر ۱۸۶۸ء میں یہاں سے تشریف لے گئے۔ایک دفعہ ۱۸۷۷ء میں آپ تشریف لائے اور لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر قیام فر ما یا اور تقریب دعوت حکیم میر حسام الدین صاحب کے مکان پر تشریف لائے۔اسی سال سرسید احمد خاں صاحب غفرلہ نے قرآن شریف کی تفسیر شروع کی تھی۔تین رکوع کی تفسیر یہاں میرے پاس آچکی تھی۔جب میں اور شیخ اللہ داد صاحب مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے لالہ بھیم سین صاحب کے مکان پر گئے تو اثناء گفتگو میں سرسید صاحب کا ذکر شروع ہوا۔اتنے میں تفسیر کا ذکر بھی آ گیا۔راقم نے کہا کہ تین رکوعوں کی تفسیر آگئی ہے جس میں دُعا اور نزول وحی کی بحث آگئی ہے۔فرمایا۔کل جب آپ آویں تو تفسیر لیتے آویں جب دوسرے دن وہاں گئے تو تفسیر له الصفت : ۲۳