حیات طیبہ — Page 28
28 کے دونوں مقام آپ نے سنے اور ٹن کو خوش نہ ہوئے اور تفسیر کو پسند نہ کیا۔راقم میرحسن لے مولاناسید میر حسن صاحب کا حضرت اقدس کے متعلق دوسرا بیان حضرت مرزا صاحب پہلے محلہ کشمیریاں میں جو اس عاصی پر معاصی کے غریب خانہ کے بہت قریب ہے عمرا نا می کشمیری کے مکان پر کرایہ پر رہا کرتے تھے۔کچہری سے جب تشریف لاتے تھے تو قرآن مجید کی تلاوت میں مصروف ہوتے تھے۔بیٹھ کر ، کھڑے ہوکر ، ٹہلتے ہوئے تلاوت کرتے تھے اور زار زار رویا کرتے تھے۔ایسی خشوع اور خضوع سے تلاوت کرتے تھے کہ اس کی نظیر نہیں ملتی۔حسب عادت زمانہ صاحب حاجات جیسے اہلکاروں کے پاس جاتے ہیں ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے۔اس عمرا مالک مکان کے بڑے بھائی فضل دین نام کو جو فی الجملہ محلہ میں موقر تھا۔آپ بلا کر فرماتے۔میاں فضل دین! ان لوگوں کو سمجھا دو کہ یہاں نہ آیا کریں نہ اپنا وقت ضائع کریں اور نہ میرے وقت کو برباد کریں۔میں کچھ نہیں کر سکتا۔میں حاکم نہیں ہوں۔جتنا کام میرے متعلق ہوتا ہے۔کچہری میں ہی کر آتا ہوں فضل دین ان لوگوں کو سمجھا کر نکال دیتے۔مولوی عبدالکریم صاحب بھی اسی محلہ میں پیدا ہوئے اور جوان ہوئے جو آخر میں مرزا صاحب کے خاص مقربین میں شمار ہوئے۔اس کے بعد وہ جامع مسجد کے سامنے ایک بیٹھک میں بمعہ منصب علی حکیم کے رہا کرتے تھے وہ (یعنی منصب علی ) وثیقہ نویس کے عہدہ پر ممتاز تھے۔بیٹھک کے قریب ایک شخص فضل دین نام بوڑھے دکاندار تھے جو رات کو بھی دکان پر ہی رہا کرتے تھے۔اُن کے اکثر احباب شام کے بعد آتے۔سب اچھے ہی آدمی ہوتے تھے۔کبھی کبھی مرزا صاحب بھی تشریف لایا کرتے تھے اور گاہ گاہ نصر اللہ نام عیسائی جو ایک مشن سکول میں ہیڈ ماسٹر تھے آجایا کرتے تھے مرزا صاحب اور ہیڈ ماسٹر صاحب کی اکثر بحث مذہبی امور میں ہو جاتی تھی۔مرزا صاحب کی تقریر سے حاضرین مستفید ہوتے تھے۔مولوی محبوب عالم صاحب ایک بزرگ نہایت پارسا اور صالح اور مرتاض شخص تھے مرزا صاحب ان کی خدمت میں بھی جایا کرتے تھے اور لالہ بھیم سین صاحب کو بھی تاکید فرماتے تھے کہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا کرو۔چنانچہ وہ بھی مولوی صاحب کی خدمت میں کبھی کبھی حاضر ہوا کرتے تھے۔جب کبھی بیعت اور پیری مریدی کا تذکرہ ہوتا۔تو مرزا صاحب فرمایا کرتے ے سیرت المہدی حصہ اول صفحه ۱۵۴ طبع اوّل