حیات طیبہ — Page 26
26 نے درخت ممنوع کا پھل کھایا اور گنہ گار ہوا۔پس چاہیے تھا کہ مسیح عورت کی شرکت سے بھی بری رہتے۔اس پر پادری صاحب خاموش ہو گئے۔پادری بٹلر صاحب مرزا صاحب کی بہت عزت کرتے تھے اور بڑے ادب سے اُن سے گفتگو کیا کرتے تھے۔پادری صاحب کو مرزا صاحب سے بہت محبت تھی۔چنانچہ پادری صاحب ولایت جانے لگے تو مرزا صاحب کی ملاقات کے لئے کچہری میں تشریف لائے۔ڈپٹی کمشنر صاحب نے پادری صاحب سے تشریف آوری کا سبب پوچھا تو پادری صاحب نے جواب دیا کہ میں مرزا صاحب سے ملاقات کرنے کو آیا تھا۔چونکہ میں وطن جانے والا ہوں۔اس لئے اُن سے آخری ملاقات کروں گا۔چنانچہ جہاں مرزا صاحب بیٹھے تھے وہیں چلے گئے اور فرش پر بیٹھے رہے اور ملاقات کر کے چلے گئے۔چونکہ مرزا صاحب پادریوں کے ساتھ مباحثہ کو بہت پسند کرتے تھے۔اس واسطے مرزا شکت تخلص نے جو بعد ازاں موحد مخلص کیا کرتے تھے اور مراد بیگ نام جالندھر کے رہنے والے تھے مرزا صاحب کو کہا کہ سید احمد خاں صاحب نے تورات وانجیل کی تفسیر لکھی ہے آپ ان سے خط و کتابت کریں اس معاملہ میں آپ کو بہت مدد ملے گی۔چنانچہ مرزا صاحب نے سرسید کو عربی میں خط لکھا۔کچہری کے منشیوں سے شیخ الہ داد صاحب مرحوم سابق محافظ دفتر سے بہت اُنس تھا اور نہایت پیچی اور سچی محبت تھی۔شہر کے بزرگوں سے ایک مولوی صاحب محبوب عالم نام سے جو عزلت گزیں اور بڑے عابد اور پارسا اور نقشبندی طریق کے صوفی تھے۔مرزا صاحب کو دلی محبت تھی۔چونکہ جس بیٹھک میں مرزا صاحب معہ حکیم منصب علی کے جو اس زمانہ میں وثیقہ نویس تھے۔رہتے تھے اور وہ سر بازار تھی اور اس دوکان کے بہت قریب تھی۔جس میں حکیم حسام الدین صاحب مرحوم کے سامان دوا سازی اور دوا فروشی اور مطلب رکھتے تھے اس سبب سے حکیم صاحب اور مرزا صاحب میں تعارف ہو گیا چنانچہ حکیم صاحب نے مرزا صاحب سے قانونچہ اور موجز کا بھی کچھ حصہ پڑھا۔چونکہ مرزا صاحب ملازمت کو پسند نہیں فرماتے تھے اس واسطے آپ نے مختاری کے امتحان کی تیاری شروع کر دی اور قانونی کتابوں کا مطالعہ شروع کر دیا پر امتحان میں کامیاب نہ ہوئے سے حکیم صاحب حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کے والد بزرگوار تھے۔سے امتحان میں کامیاب نہ ہونے کی ایک ظاہری وجہ یہ پیدا ہوئی کہ بائیس امیدوار امتحان میں شامل ہوئے تھے۔جن میں سے ایک نرائن سنگھ نامی امیدوار امتحان میں شرارت کرتے پکڑا گیا۔جس کی وجہ سے کبھی امیدوار فیل کر دیئے گئے۔(سیرت المہدی حصہ سوم صفحہ ۱۷۹ بروایت پنڈت دیوی رام )