حیات طیبہ

by Other Authors

Page 447 of 492

حیات طیبہ — Page 447

447 مرزا غلام احمد صاحب ۱۸۶۰ ء یا ۱۸۶ء کے قریب ضلع سیالکوٹ میں محرر تھے۔اُس وقت آپ کی عمر ۲۲-۲۳ سال کی ہوگی۔اور ہم چشمد یدہ شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے کاروبار ملازمت کے بعد ان کا تمام وقت مطالعہ دینیات می صرف ہوتا تھا۔عوام سے کم ملتے تھے۔۱۸۷۷ء میں ہمیں ایک شب قادیان میں آپ کے ہاں مہمانی کی عزت حاصل ہوئی۔ان دنوں میں بھی آپ عبادت اور وظائف میں اس قدر محو ومستغرق تھے کہ مہمانوں سے بھی بہت کم گفتگو کرتے تھے۔گو ہمیں ذاتی طور پر مرزا صاحب کے دعاوی یا الہامات کے قائل اور معتقد ہونے کی عزت حاصل نہیں ہوئی۔مگر ہم ان کو ایک پکا مسلمان سمجھتے (۵) لاہور کے آریہ اخبار ”اندر“ نے لکھا:۔”مرزا صاحب اپنی ایک صفت میں محمد صاحب سے بہت مشابہت رکھتے تھے اور وہ صفت ان کا استقلال تھا۔خواہ وہ کسی مقصود کو لیکر تھا اور ہم خوش ہیں کہ وہ آخری دم تک اس ڈٹے رہے اور ہزاروں مخالفتوں کے باوجود ذرا بھی لغزش نہیں کھائی۔“ (1) اخبار آریہ پتر کا لاہور کے ایڈیٹر صاحب نے لکھا۔عام طور پر جو اسلام دوسرے مسلمانوں میں پایا جاتا ہے۔اس کی نسبت مرزا صاحب کے خیالات اسلام کے متعلق زیادہ وسیع اور زیادہ قابل برداشت تھے۔مرزا صاحب کے تعلقات آریہ سماج سے کبھی دوستانہ نہیں ہوئے اور جب ہم آریہ سماج کی گذشتہ تاریخ کو یاد کرتے ہیں تو اُن کا وجود ہمارے سینوں میں بڑا جوش پیدا کرتا ہے۔“ (۷) الہ آباد کے انگریزی اخبار پائین “ نے لکھا:۔”مرزا صاحب کو اپنے دعوی کے متعلق کبھی کوئی شک نہیں ہوا۔اور وہ کامل صداقت اور خلوص کے ساتھ اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ ان پر کلام الہی نازل ہوتا ہے اور یہ کہ انہیں ایک خارق عادت طاقت بخشی گئی ہے۔۔۔ایک دفعہ انہوں نے بشپ ویڈن کو چیلنج کیا تھا (جس نے اُسے حیران کر دیا کہ وہ نشان نمائی میں ان کا مقابلہ کرے اور مرزا صاحب اس بات کے لئے تیار تھے کہ حالاتِ زمانہ کے ماتحت بشپ صاحب جس طرح چاہیں اپنا اطمینان کر لیں کہ نشان دکھانے میں کوئی فریب اور دھو کہ نہ ہو۔۔۔وہ لوگ جنہوں نے مذہبی میدان میں دنیا کے اند حرکت پیدا کر دی ہے وہ اپنی طبیعت میں انگلستان کے لارڈ بشپ کی نسبت مرزا غلام احمد صاحب