حیات طیبہ

by Other Authors

Page 448 of 492

حیات طیبہ — Page 448

448 سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔۔۔بہر حال قادیان کا نبی ان لوگوں میں سے تھا۔جو ہمیشہ دنیا میں نہیں آتے ،لہ وو (۸) علی گڑھ انسٹیٹیوٹ نے حضرت اقدس کی وفات پر حضور کے مختصر حالات لکھنے کے بعد لکھا: بیشک مرحوم اسلام کا ایک بہت بڑا پہلوان تھا۔“ اسی طرح کئی انگریزی اور اردو اخباروں نے اپنے اخبارات میں نہایت ہی قیمتی آراء اور افکار کو درج کیا، لیکن افسوس کہ اس کتاب میں ان کے درج کرنے کی گنجائش نہیں اور جوں جوں آپ کا سلسلہ دنیا میں پھیلتا جاتا ہے۔اور آپ کا کام وسعت اختیار کرتا جاتا ہے۔بڑے بڑے جلیل القدر صحافیوں سے خراج عقیدت حاصل کرتا چلا جارہا ہے۔اُس وقت سے اس وقت تک تمام اخبارات اور رسائل کی اس قسم کی تحریر میں جمع کی جائیں تو ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔(1) چنانچہ حال ہی میں ہندوستان کے مشہور اور نامور ادیب جناب نیاز فتح پوری صاحب ایڈیٹر رسالہ نگار لکھنو نے لکھا: بانی احمدیت کے متعلق میرا مطالعہ ہنوز تشنہ تکمیل ہے اور میں نہیں کہہ سکتا کہ مرزا صاحب کی سیرت، ان کی تعلیمات، ان کی دعوت اصلاح، ان کے تفہیمات قرآنیہ، ان کے عقائدی نظریے اور ان کے تمام عملی کارناموں کو سمجھنے کے لئے کتنا زمانہ درکار ہوگا۔کیونکہ ان کی وسعت و ہمہ گیری کا مطالعہ قلزم آشامی“ چاہتا ہے اور یہ شاید میرے بس کی بات نہیں۔تاہم اگر اس وقت تک وو کے تمام تاثرات کو اختصار کے ساتھ بیان کرنے پر مجبور کیا جائے تو میں بلا تکلف کہہ دوں گا کہ وہ بڑے غیر معمولی عزم و استقلال کا صاحب فراست و بصیرت انسان تھا۔جو ایک خاص باطنی قوت اپنے ساتھ لایا تھا اور اس کا دعوی تجدید و مہدویت کوئی پاؤر ہوا بات نہ تھی۔“ اس میں کلام نہیں کہ اُنہوں نے یقینا اخلاق اسلامی کو دوبارہ زندہ کیا۔اور ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھا دی۔جس کی زندگی کو ہم یقینا اسوۂ نبی کا پر تو کہہ سکتے ہیں۔‘ سے ے اخبار ” پائینز “ الہ آباد ۳۰ مئی ۱۹۰۸ "رسالہ نگار لکھنو مادو نومبر ۱۹۵۹ء