حیات طیبہ

by Other Authors

Page 446 of 492

حیات طیبہ — Page 446

446 نے لکھا: ہے۔۔۔۔۔۔۔آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو۔اے انہیں دنوں اسی اخبار وکیل میں ایک اور مقالہ بھی شائع ہوا۔جس کا ایک حصہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے: کیریکٹر کے لحاظ سے مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا چھوٹے سے چھوٹا دھبہ بھی نظر نہیں آتا۔وہ ایک پاکباز کا جینا جیا۔اور اُس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی۔غرضیکہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے پچاس سالوں نے بلحاظ اخلاق و عادات اور کیا بلحاظ خدمات و حمایتِ دین مسلمانانِ ہند میں ان کو ممتاز و برگزیدہ اور قابلِ رشک مرتبہ پر پہنچادیا۔‘سے (۲) دہلی کے اخبار کرزن گزٹ کے ایڈیٹر مرزا حیرت دہلوی نے لکھا: مرحوم کی وہ اعلیٰ خدمات جو اس نے آریوں اور عیسائیوں کے مقابلہ میں اسلام کی کی ہیں وہ واقعی بہت ہی تعریف کی مستحق ہیں۔اس نے مناظرہ کا بالکل رنگ ہی بدل دیا۔اور ایک جدید لٹریچر کی بنیاد ہندوستان میں قائم کر دی۔نہ بحیثیت ایک مسلمان ہونے کے بلکہ محقق ہونے کے ہم اس بات کا اعتراف کرتے ہیں۔کہ کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا۔۔۔۔۔اگر چہ مرحوم پنجابی تھا۔مگر اس کے قلم میں اس قدر قوت تھی۔کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں۔۔۔۔۔اس کا پرزور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے۔اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجد کی سی حالت طاری ہو جاتی ہے۔اُس نے ہلاکت کی پیشگوئیوں، مخالفتوں اور نکتہ چینیوں کی آگ میں سے ہو کر اپنا رستہ صاف کیا۔اور ترقی کے انتہائی عروج تک پہنچ گیا۔(۳) لاہور کے مشہور غیر احمدی رسالہ ” تہذیب النسوان“ کے ایڈیٹر صاحب نے لکھا: ”مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دل کو تسخیر کر لیتی تھی۔وہ نہایت باخبر عالم، بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے۔ہم انہیں مذہبا مسیح موعود تو نہیں مانتے لیکن ان کی ہدایت اور رہنمائی مُردہ رُوحوں کے لئے 66 واقعی مسیحائی تھی۔“ (۴) اخبار زمیندار کے ایڈیٹر مولوی ظفر علی خاں کے والد اور اخبار زمیندار کے بانی منشی سراج الدین احمد لے اخبار وکیل امرتسر۔ه اخبار وکیل ۳۰ مئی ۱۹۰۸ء سے کرزن گزٹ دہلی یکم جون ۱۹۰۸ء۔