حیات طیبہ — Page 410
410 متعلق آخری فیصلہ نہیں۔اور کسی شخص کے ساتھ آخری فیصلہ سے مراد ہمیشہ یہی ہوا کرتا ہے کہ جب تک دونوں فریق کسی متحدہ طریق فیصلہ کو منظور نہ کریں۔کوئی فیصلہ معرض وجود میں نہیں آسکتا۔مندرجہ بالا حقائق سے ظاہر ہے کہ حضرت اقدس نے ”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ“ والے اشتہار میں اپنی طرف سے دعا مباہلہ ہی شائع فرمائی تھی۔اور مولوی صاحب نے بھی اسے دعا مباہلہ ہی سمجھ کر بالمقابل دعاء مباہلہ“ شائع کرنے سے گریز اختیار کیا تھا۔حضرت اقدس کا ایک فیصلہ کن حوالہ حضرت اقدس نے اپنی زندگی میں ہی کسی شخص کے سوال کرنے پر فر مایا کہ: یہ کہاں لکھا ہے کہ جھوٹا سچے کی زندگی میں مرجاتا ہے۔ہم نے تو یہ لکھا ہے کہ مباہلہ کرنے والوں میں سے جو جھوٹا ہو۔وہ بچے کی زندگی میں مرجاتا ہے۔کیا آنحضرت صلعم کے سب اعداء ان کی زندگی میں ہلاک ہو گئے تھے۔ہزاروں اعداء آپ کی وفات کے بعد زندہ رہے۔ہاں جھوٹا مباہلہ کرنے والا سچے کی زندگی میں ہلاک ہوا کرتا ہے۔ایسے ہی ہمارے مخالف بھی ہمارے مرنے کے بعد زندہ رہیں گے۔ہم تو ایسی باتیں ٹن کر حیران ہو جاتے ہیں دیکھو ہماری باتوں کو کیسے الٹ پلٹ کر پیش کیا جاتا ہے اور تحریف کرنے میں وہ کمال کیا ہے کہ یہودیوں کے بھی کان کاٹ دیئے۔اے ڈاکٹر الیگزنڈرڈوئی کی ہلاکت ۹ مارچ ۱۹۰۷ ء امریکہ میں ایک شخص ڈاکٹر جان الیگزنڈر ڈوئی کے نام سے مشہور تھا۔اس نے ۸۹۹!اء کے آخر میں یا ۱۹۰۰ء کی ابتداء میں یہ دعویٰ کیا کہ جو کچھ میں تمہیں کہوں گا تمہیں اسکی تعمیل کرنی پڑے گی۔کیونکہ میں خدا کے وعدے کے مطابق پیغمبر ہوں۔“ یہ امریکہ کا ایک مشہور ومتمول شخص تھا۔اس نے ۱۹۰۱ء میں ایک شہر میحون آباد کیا۔جو اپنی خوبصورتی وسعت اور عمارات کے لحاظ سے تھوڑے ہی عرصہ کے اندر امریکہ کے مشہور شہروں میں شمار ہونے لگا۔اس کا اپنا اخبار ”لیوز آف ہیلنگ“ بڑی آب و تاب کے ساتھ نکلا کرتا تھا۔جس کی وجہ سے اس کی شہرت تمام ملک امریکہ میں نہایت ہی نیک نامی کے ساتھ پھیل گئی۔اس کے مریدوں کی تعداد لاکھوں تک پہنچ چکی تھی۔الحکم ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۷ ص ۹ که از عبرتناک انجام صفحه ۲۵ مصنفہ ڈاکٹر چوہدری خلیل احمد صاحب ناصر مبلغ امریکہ بحوالہ پارلان