حیات طیبہ — Page 411
411 ایک شخص پارلان نامی نے ڈاکٹر ڈوئی کی زندگی کے حالات لکھے ہیں۔اس کی کتاب کا پیش لفظ لکھتے ہوئے شکا گو کے پروفیسر فرینکلین جانسن نے لکھا ہے: گذشتہ بارہ برس کے زمانہ میں کم ہی ایسے شخص گذرے ہیں۔جنہوں نے امریکن اخباروں میں اس قدر جگہ حاصل کی۔جس قدر کہ جان الیگزنڈر ڈوئی نے “ مطلب یہ تھا کہ ڈاکٹر صاحب مذکور کو امریکہ اور اس کے اخباروں میں بہت بڑی شہرت کا مقام حاصل تھا۔ڈاکٹر ڈوئی ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شدید ترین دشمن اور بد گو تھا اور ہمیشہ اس فکر میں رہتا تھا کہ جس طرح ممکن ہو اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹادے۔چنانچہ وہ اپنے اخبار میں لکھتا ہے: میں امریکہ اور یورپ کی عیسائی اقوام کو خبر دار کرتا ہوں کہ اسلام مُردہ نہیں ہے۔اسلام طاقت سے بھرا ہوا ہے۔اگر چہ اسلام کو ضرور نابود ہونا چاہئے۔محمد ن ازم کو ضرور تباہ ہونا چاہئے۔مگر اسلام کی بربادی نہ تو مضمحل لاطینی عیسویت کے ذریعہ ہو سکے گی۔نہ بے طاقت یونانی عیسویت کے ذریعہ سے اور نہ ان لوگوں کی تھکی ماندی عیسویت کے ذریعہ سے جو مسیح کو صرف برائے نام مانتے ہیں اور پیٹو لوگوں اور بدمستوں اور بدکاروں اور دیوثوں اور ظالموں کی زندگی بسر کرتے ہیں۔“ حضرت اقدس کو جب اس شخص کے دعاوی کا علم ہوا۔تو آپ نے ۸ /اگست ۱۹۰۲ ء کو اُسے ایک چٹھی کے لکھی جس میں حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات اور سرینگر کشمیر میں اُن کی قبر کا ذکر کرتے ہوئے اسے مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے لکھا: غرض ڈوئی بار بار کہتا ہے کہ عنقریب یہ سب ہلاک ہو جائیں گے۔بجز اس گروہ کے جو یسوع مسیح کی خدائی مانتا ہے اور ڈوئی کی رسالت ، اس صورت میں یورپ و امریکہ کے تمام عیسائیوں کو چاہئے کہ بہت جلد ڈوئی کو مان لیں تا ہلاک نہ ہو جائیں اور جبکہ انہوں نے ایک نامعقول امر کو مان لیا ہے کہ وہ خدا کا رسول ہے۔رہے مسلمان۔سو ہم ڈوئی کی خدمت میں یہ ادب عرض کرتے ہیں کہ اس مقدمہ میں کروڑوں مسلمانوں کے مارنے کی کیا حاجت ہے۔ایک سہل طریق ہے جس سے اس بات کا فیصلہ ہو جائے گا کہ آیا ڈوئی کا خدا سچا خدا ہے یا ہمارا خدا۔وہ بات یہ ہے کہ ڈوئی صاحب تمام مسلمانوں کو بار بار موت کی پیشگوئی نہ سناویں۔بلکہ ان میں سے صرف مجھے اپنے اه لیوز آف ہیلنگ ۲۵/اگست ۱۹۰۰ء کے اسی زمانہ میں ایک پادری مسٹر پگٹ نے لنڈن میں خدائی کا دعویٰ کیا تھا جسکو حضرت اقدس نے عذاب الہی سے ڈرایا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ بالکل خاموش ہو گیا اور غیر معروف زندگی گزار کر مر گیا۔مؤلف