حیات طیبہ

by Other Authors

Page 409 of 492

حیات طیبہ — Page 409

409 پس چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اپنی قدیم عادت کے مطابق مباہلہ سے فرار اختیار کیا۔اس لئے مباہلہ نہ ہوا۔اور مولوی صاحب موصوف کو خدا تعالیٰ نے ان کے اپنے تسلیم کردہ اصول کی رُو سے ”جھوٹے ، دغاباز ، مفسد اور نافرمان لوگوں کی طرح لمبی عمر دی تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں۔اگر وہ جرات کر کے مباہلہ کر لیتے۔تو یقیناً وہ حضرت اقدس سے پہلے مرتے۔مگر چونکہ انہوں نے نجران کے عیسائیوں کی طرح سے مباہلہ سے گریز کیا۔اس لئے وہ حضور کی زندگی میں مرنے سے بچ گئے۔پس جس طرح وہاں پر نجران کے عیسائیوں کا فرار خدائی فیصلہ بروئے مباہلہ“ کے رستہ میں روک کا موجب بن گیا۔اس طرح یہاں بھی مولوی ثناء اللہ صاحب کا فراران کو ہلاکت سے بچا گیا۔اس اعتراض کا جواب کہ حضرت اقدس کا اشتہار مسودہ مباہلہ نہ تھا! مولوی ثناء اللہ صاحب اور بعض دوسرے معترضین نے حضرت اقدس کے وصال کے کچھ عرصہ بعد مولوی ثناء اللہ صاحب کے ”مباہلہ سے فرار پر پردہ ڈالنے کے لئے یہ کہنا شروع کر دیا تھا کہ حضرت اقدس کی دعا دعاء مباہلہ بی تھی۔مگر یہ اعتراض ان کا مندرجہ ذیل وجوہ کی بنا پر غلط ہے: اوّل: خود مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس اشتہار کی اشاعت پر اسے دعاء مباہلہ“ ہی سمجھا۔ورنہ مندرجہ بالا انکار کی وجوہ “ لکھنے کی کیا ضرورت تھی۔خاص طور پر یکطرفہ دعا کی نامنظوری کا اعلان تو قطعا غیر معقول تھا۔دوم : مولوی ثناء اللہ صاحب نے حضرت اقدس کی وفات کے ایک ماہ بعد لکھا۔کرشن قادیان نے ۱۵ اپریل ۱۹۰۷ ء کو میرے ساتھ مباہلہ کا اشتہار شائع کیا تھا۔“ ہے سوم : حضرت اقدس کے اشتہار کا عنوان ہے۔”مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ مولوی ثناء اللہ کے لے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نجران کے عیسائیوں کو آخری اتمام حجت کی خاطر مباہلہ کے لیے بلایا تھا۔جیسا کہ قرآن کریم کی آیت "لعنة اللہ علی الکاذبین ، اس پر شاہد ہے۔مگر وہ میدان مباہلہ میں حاضر نہ ہوئے تھے۔انکے اس فرار کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لَمَا حَالَ الْحَوْلُ عَلَى النَّصَارَى كُلِّهِمْ حَتَّى يَهْلِكُوا۔“ ( تفسیر کبیر جلد ۲ صفحہ ۲۹۹) یعنی اگر عیسائی مباہلہ کر لیتے تو وہ تمام کے تمام ایک سال کے اندر ہلاک ہو جاتے۔اسی طرح حضرت اقدس نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے متعلق فرمایا تھا کہ اگر وہ یعنی ( مولوی ثناء اللہ صاحب ) اس چیلنج پر مستعد ہوئے کہ کا ذب صادق سے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مرینگے۔اعجاز احمدی صفحہ ۳۶ مرقع قادیانی صفحه ۱۸ جون ۱۹۰۸ء