حیات طیبہ — Page 408
408 اللہ کے زیادہ عمر نہ پانے کا ذکر فرمایا ہے اور ان دونوں میں جو فرق ہے وہ بالکل ظاہر ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایسا لکھنے سے نائب ایڈیٹر کا مقصد کیا تھا؟ اور مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کی تائید کس غرض سے کی ؟ تو بادنی تامل معلوم ہو جاتا ہے کہ دونوں کے دل میں یہ یقین تھا کہ اگر مقابلہ کی نوبت آگئی تو مولوی ثناء اللہ یقیناً پہلے مرینگے اور اس وقت ہمیں یہ کہنے کا موقعہ ملے گا کہ جھوٹے کولمبی عمر دیا جانا تو ہم پہلے ہی لکھ چکے ہیں اور اگر مباہلہ کی نوبت نہ آئی اور حضرت اقدس) مرزا صاحب پہلے وفات پا گئے تو ہم کہیں گے۔یہ یکطرفہ بددعا کرنے کا نتیجہ ہے۔اس کے بعد مولوی ثناء اللہ صاحب نے خود حضرت اقدس کی تحریر دعائے مباہلہ کے نیچے اپنی تحریر دُعائے مباہلہ درج کرنے کی بجائے لعن طعن۔دُشنام دہی۔بد زبانی۔دریدہ دہانی۔لغو گوئی اور مغالطہ دہی سے بھری ہوئی ایک تحریر درج کر دی۔ہم اس کی لغویات نیز خرافات کو چھوڑ کر اس میں سے چند باتیں درج کرتے ہیں : ا۔اوّل اس دُعا کی منظوری مجھ سے نہیں لی۔اور بغیر منظوری کے اس کو شائع کر دیا۔“ -۲- " تمہاری یہ تحریر کسی صورت میں بھی فیصلہ کن نہیں ہو سکتی۔“ میرا مقابلہ تو آپ سے ہے اگر میں مر گیا۔تو میرے مرنے سے اور لوگوں پر کیا حجت ہو سکتی ہے۔“ ۴۔خدا کے رسول چونکہ رحیم و کریم ہوتے ہیں اور ان کی ہر وقت یہی خواہش ہوتی ہے کہ کوئی شخص ہلاکت میں نہ پڑے۔مگر اب کیوں آپ میری ہلاکت کی دُعا کرتے ہیں۔“ ۵۔خدا تعالیٰ جھوٹے ، دغا باز ، مفسد اور نافرمان لوگوں کو لمبی عمریں دیا کرتا ہے۔تا کہ وہ اس مہلت میں اور بھی برے کام کر لیں۔“ نوٹ : یہ آخری عبارت نائب ایڈیٹر کی طرف سے لکھی گئی مگر مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کی تصدیق کی اور لکھا کہ ” میں اس کو صحیح جانتا ہوں۔‘‘لے مختصر یہ کہ۔۔۔۔یہ تمہاری تحریر مجھے منظور نہیں اور نہ کوئی دانا اسے منظور کر سکتا ہے۔“ پھر مولوی ثناء اللہ صاحب لکھتے ہیں : ے۔آنحضرت صلعم باوجود سچا نبی ہونے کے مسیلمہ کذاب سے پہلے انتقال فرما گئے اور مسلیمہ باوجود کاذب ہونے کے صادق کے پیچھے مرا سے پائیں گے۔کوئی ایسا نشان دکھاؤ جو ہم بھی دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔مر گئے تو کیا دیکھیں گے اور کیا ہدایت لے اہلحدیث ۳۱ جولائی ۱۹۰۷ء سے اقتباسات از اہل حدیث ۱/۲۶ پریل ۱۹۰۷ ء سے مرقع قادیانی صفحه 9 اگست ۱۹۰۷ء تحریر مولوی صاحب موصوف مندرجہ اخبار وطن۔۔۲۶ / اپریل ۱۹۰۷ ء صفحه ۱۱