حیات طیبہ — Page 392
392 تھے منجملہ ان کے یہ کہ وہ ولی عہد کے ماتحت رعایا کی طرح قرار دیئے گئے تھے اور انہوں نے بہت کچھ کوشش کی۔مگر نا کام رہے۔اور صرف آخر کوشش یہ باقی رہی تھی کہ وہ نواب گورنر جنرل بہادر بالقابہ سے دادرسی چاہیں اور اس میں بھی کچھ امید نہ تھی۔کیونکہ ان کے خلاف قطعی طور پر حکامِ ماتحت نے فیصلہ کر دیا تھا۔اس طوفان غم وہم میں جیسا کہ انسان کی فطرت میں داخل ہے۔انہوں نے صرف مجھ سے دُعا کی ہی درخواست نہ کی۔بلکہ یہ وعدہ بھی کیا کہ اگر خدا تعالیٰ اُن پر رحم کرے اور اس عذاب سے نجات دے تو وہ تین ہزار نقد روپیہ بعد کامیابی کے بلا توقف لنگر خانہ کی مدد کے لئے ادا کریں گے۔چنانچہ بہت سی دُعاؤں کے بعد مجھے یہ الہام ہوا۔”اے سیف ! اپنا رُخ اس طرف پھیر لے“ تب میں نے نواب محمدعلی خاں صاحب کو اس وحی الہی سے اطلاع دے دی۔بعد اس کے خدا تعالیٰ نے اُن پر رحم کیا۔چنانچہ انہوں نے بلا توقف تین ہزار رو پید انگرخانہ کیلئے بھیج دیا۔لے پینگ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے متعلق ایک نشان ۱۹۰۶ء حضرت اماں جان کے چھوٹے بھائی استاذی المکرم حضرت میر محمد اسحاق صاحب ۱۹۰۶ ء میں سخت بیمار ہو گئے اور تیز بخار کے ساتھ ہر دوئن ران میں گلٹیاں بھی نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے۔حضرت اقدس کو اطلاع ہوئی۔حضور نے دعا فرمائی اور خدا تعالیٰ نے حضرت میر صاحب کو خارق عادت طور پر صحت عطا فرمائی۔حضور نے اس نشان کا ذکر اپنی کتاب حقیقۃ الوحی میں کیا ہے۔جسے حضور ہی کے الفاظ میں درج کیا جاتا ہے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اور خوشی کا نشان مجھے عطا فرمایا اور وہ یہ ہے کہ میں نے ان دنوں میں ایک دفعہ دُعا کی تھی کہ کوئی تازہ نشان خدا تعالیٰ مجھے دکھاوے۔تب جیسا کہ ۳۰ اگست ۱۹۰۶ ء کے اخبار بدر میں شائع ہو چکا ہے۔یہ الہام مجھے ہوا کہ آج کل کوئی نشان ظاہر ہوگا۔یعنی عنقریب کوئی نشان ظاہر ہونے والا ہے۔چنانچہ وہ نشان اس طرح پر ظہور میں آیا کہ میں نے کئی دفعہ ایسی منذر خواہیں دیکھیں۔جن میں صریح طور پر یہ بتلایا گیا تھا کہ میر ناصر نواب جو میرے خسر ہیں ان کے عیال کے متعلق کوئی مصیبت آنے والی ہے۔چنانچہ ایک دفعہ میں نے گھر میں بکرے کی ایک ران لٹکائی ہوئی دیکھی۔جو کسی کی موت پر دلالت کرتی تھی اور ایک دفعہ میں نے دیکھا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خاں اسٹنٹ سرجن اس چوبارہ کے پاس باہر کی طرف ا چشمہ معرفت صفحه ۳۲۴