حیات طیبہ

by Other Authors

Page 393 of 492

حیات طیبہ — Page 393

393 چوکھٹ کے ساتھ لگ کر کھڑا ہے۔جس میں میں رہتا ہوں۔تب کسی شخص نے مجھ کو کہا کہ عبدالحکیم خاں کو والد ہ اسحاق نے گھر کے اندر بلایا ہے۔(والدہ اسحاق میر ناصر نواب صاحب کی بیوی ہیں اور اسحاق ان کا لڑکا ہے ) اور وہ سب ہمارے گھر میں ہی رہتے ہیں۔تب میں نے یہ بات سن کر جواب دیا کہ میں عبد الحلیم خاں کو ہرگز اپنے گھر میں آنے نہ دوں گا۔اس میں ہماری بے عروقی ہے۔تب وہ آنکھوں کے سامنے سے گم ہو گیا۔اندر داخل نہیں ہوا۔یادر ہے کہ علم تعبیر میں معتبرین نے یہ لکھا ہے۔جس کا بارہا تجربہ ہو چکا ہے کہ اگر کسی کے گھر میں دشمن داخل ہو جائے تو اس گھر میں کوئی مصیبت یا موت آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔غرض جب اس قدر مجھے الہام ہوئے۔جن سے یقیناً میرے پر کھل گیا کہ میر صاحب کے عیال پر کوئی مصیبت در پیش ہے۔تو میں دعا میں لگ گیا اور وہ اتفاقاً مع اپنے بیٹے اسحاق اور اپنے گھر والوں کے لاہور جانے کو تھے۔میں نے ان کو یہ خواہیں سنا دیں اور لاہور جانے سے روک دیا اور انہوں نے کہا کہ میں آپ کی اجازت کے بغیر ہرگز نہیں جاؤں گا۔جب دوسرے دن کی صبح ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ چڑھ گیا اور سخت گھبراہٹ شروع ہوگئی اور دونوں طرف بُن ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے کیونکہ اس ضلع کے بعض مواضع میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔تب معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا خوابوں کی تعبیر یہی تھی۔اور دل میں سخت غم پیدا ہوا اور میں نے میر صاحب کے گھر کے لوگوں کو کہہ دیا کہ میں تو دعا کرتا ہوں۔آپ تو بہ واستغفار بہت کریں کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ نے دشمن کو اپنے گھر میں بلایا ہے اور یہ کسی لغزش کی طرف اشارہ ہے اور اگر چہ میں جانتا ہوں کہ موت فوت قدیم سے ایک قانونِ قدرت ہے لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مر گیا۔تو ہماری تکذیب میں ایک شور قیامت برپا ہو جائے گا اور پھر گوئیں ہزار نشان بھی پیش کروں۔تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی ان کا اثر نہیں ہوگا۔کیونکہ میں صد ہا مرتبہ لکھ چکا ہوں۔اور شائع کر چکا ہوں اور ہزار ہا لوگوں میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے۔غرض اس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کر سکتا۔میں فی الفور دُعا میں مشغول ہو گیا اور بعد دُعا کے عجیب نظارہ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارق عادت کے طور پر اسحاق کا تپ اُتر گیا اور گلٹیوں کا نام ونشان نہ رہا اور وہ اُٹھ کر بیٹھ گیا اور نہ صرف اس قدر بلکہ پھرنا۔چلنا۔کھیلنا۔دوڑ نا شروع کر دیا۔گو یا کبھی کوئی بیماری نہیں ہوئی تھی۔یہی ہے احیائ