حیات طیبہ — Page 391
391 میں نے الفور ڈالا گیا۔کہ یہ دیوانگی کی حالت جو اس میں پیدا ہوگئی یہ اس لئے نہیں تھی کہ وہ دیوانگی اس کو ہلاک کرے۔بلکہ اس لئے تھی کہ تا خدا تعالیٰ کا نشان ظاہر ہو اور تجربہ کار لوگ کہتے ہیں۔کہ کبھی دنیا میں ایسا دیکھنے میں نہیں آیا کہ ایسی حالت میں کہ جب کسی کو دیوانہ کتے نے کاٹا ہو اور دیوانگی کے آثار ظاہر ہو گئے ہوں۔پھر کوئی شخص اس حالت سے جانبر ہو سکے اور اس سے زیادہ اس بات کا اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ جو ماہر اس فن کے کسولی میں گورنمنٹ کی طرف سے سگ گزیدہ کے علاج کے لئے ڈاکٹر مقرر تھے۔انہوں نے ہمارے تار کے جواب میں صاف لکھ دیا کہ اب کوئی علاج نہیں ہو سکتا۔اس جگہ اس قدر لکھنا رہ گیا کہ جب میں نے اس لڑکے لئے دُعا کی۔تو خدا نے میرے دل میں القا کیا کہ فلاں دوا دینی چاہئے۔چنانچہ میں نے چند دفعہ وہ دوا بیمار کو دی۔آخر بیمار اچھا ہو گیا۔یا یوں کہو کہ مُردہ زندہ ہو گیا۔“ اے اس واقعہ کے بعد میاں عبد الکریم اٹھائیس برس تک زندہ رہا اور آخر دسمبر ۱۹۳۴ء میں فوت ہوا۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی کے متعلق ایک نشان مئی ۱۹۰۶ ء حضرت سیٹھ عبدالرحمن صاحب مدراسی ایک نہایت ہی مخلص اور یک رنگ بزرگ تھے۔انہیں ذیا بیطس کی بیماری تھی۔ذیا بیطس کے نتیجہ میں کاربنکل کا پھوڑا جو نکلا توسخت گھبرا گئے۔حضرت اقدس کی خدمت میں دعا کے لئے تار دیا۔حضرت فرماتے ہیں کہ : ” اُن کی بیماری کی وجہ سے بڑا فکر اور بڑا تر ڈ دہوا۔قریبا نو بجے کا وقت تھا اور میں غم اور فکر میں بیٹھا ہوا تھا۔کہ یکدفعہ غنودگی ہو کر میرا سر نیچے کی طرف جُجھک گیا۔اور معا خدائے عزوجل کی طرف سے وحی آئی کہ " آثار زندگی بعد اس کے ایک اور تار مدراس سے آیا کہ حالت اچھی ہے کوئی گھبراہٹ نہیں۔‘۲ حضرت نواب محمد علی خانصاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے متعلق ایک نشان ۱۹۰۶ء حضرت اقدس فرماتے ہیں: نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ معہ اپنے بھائیوں کے سخت مشکلات میں پھنس گئے ا تتمہ حقیقۃ الوحی صفحہ ۴۶۔۴۷ کے حقیقۃ الوحی صفحه ۳۲۵