حیات طیبہ

by Other Authors

Page 390 of 492

حیات طیبہ — Page 390

390 والے صحن میں جو سیدہ ام وسیم صاحبہ کی طرف سے سیڑھیاں اترتی ہیں۔وہاں حضرت اماں جان نے استقبال کیا اور دولہن کو دار البرکات میں لے گئیں۔‘1 میاں عبد الکریم کے متعلق خدا کا نشان ۱۹۰۶ء یاد گیر ضلع گلبر گه ریاست حیدر آباد دکن سے ایک طالب علم عبد الکریم نام قادیان دار الامان میں تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے آیا تھا اُسے اتفاقا ایک دیوانے کتے نے کاٹ لیا۔میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس کے صحت یاب ہونے کا واقعہ میں حضرت اقدس کے الفاظ میں ہی بیان کر دوں۔حضور فرماتے ہیں: ”ہم نے اس کو معالجہ کے لئے کسولی بھیج دیا۔چند روز تک اس کا گسولی میں علاج ہوتا رہا۔پھر وہ قادیان میں واپس آیا۔تھوڑے دن گذرنے کے بعد اس میں وہ آثار دیوانگی کے ظاہر ہوئے۔جو دیوانہ گتے کے کاٹنے کے بعد ظاہر ہوا کرتے ہیں اور پانی سے ڈرنے لگا۔اور خوفناک حالت پیدا ہوگئی۔تب اس غریب الوطن عاجز کے لئے میرا دل سخت بے قرار ہوا اور دُعا کے لئے ایک خاص توجہ پیدا ہو گئی۔ہر ایک شخص سمجھتا تھا کہ وہ غریب چند گھنٹے کے بعد مر جائیگا۔ناچار اس کو بورڈنگ سے باہر نکال کر ایک الگ مکان میں دوسروں سے علیحدہ ہر ایک احتیاط سے رکھا گیا۔اور کسولی کے انگریز ڈاکٹروں کی طرف تار بھیجدی اور پوچھا گیا کہ اس حالت میں اس کا کوئی علاج بھی ہے؟ اس طرف سے بذریعہ تار جواب آیا کہ اب اس کا کوئی علاج نہیں۔مگر اس غریب اور بے وطن لڑ کے لئے میرے دل میں بہت توجہ پیدا ہوگئی۔اور میرے دوستوں نے بھی اس کے لئے دُعا کرنے کے لئے بہت ہی اصرار کیا۔کیونکہ اس غربت کی حالت میں وہ لڑکا قابلِ رحم تھا اور نیز دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ اگر وہ مر گیا تو ایک بڑے رنگ میں اس کی موت شماست اعداء کا موجب ہوگی۔تب میرا دل اس کے لئے سخت درد اور بے قراری میں مبتلا ہوا اور خارق عادت توجہ پیدا ہوئی۔جو اپنے اختیار سے پیدا نہیں ہوتی۔بلکہ محض خدا تعالیٰ کی طرف سے پیدا ہوتی ہے اور اگر پیدا ہو جائے تو خدا تعالیٰ کے اذن سے وہ اثر دکھاتی ہے۔کہ قریب ہے کہ اس سے مُردہ زندہ ہو جائے۔غرض اس کے لئے اقبال علی اللہ کی حالت میسر آ گئی اور جب وہ توجہ انتہا تک پہنچ گئی اور درد نے اپنا پورا تسلط میرے دل پر کر لیا۔تب اس بیمار پر جو در حقیقت مُردہ تھا اس توجہ کے آثار ظاہر ہونے شروع ہو گئے اور یا تو وہ پانی سے ڈرتا اور روشنی سے بھاگتا تھا اور یا یک دفعہ طبیعت نے صحت کی طرف رُخ کیا اور اُس نے کہا کہ اب مجھے پانی سے ڈر نہیں آتا۔تب اس کو پانی دیا گیا۔تو اُس نے بغیر کسی خوف کے پی لیا۔بلکہ پانی سے وضو کر کے نماز بھی پڑھ لی۔اور تمام رات سوتارہا اور خوفناک اور وحشیانہ حالت جاتی رہی۔یہاں تک کہ چند روز تک بکلی صحت یاب ہو گیا۔میرے دل له اصحاب احمد جلد دوم صفحه ۲۶۹