حیات طیبہ

by Other Authors

Page 17 of 492

حیات طیبہ — Page 17

17 دیا۔واپسی پر جب آپ کے والد صاحب کو اس واقعہ کا علم ہوا تو وہ ناراض ہوئے۔اے آپ کی منکسر المزاجی اور حسن خلق کے چند نمونے آپ کے بڑے بیٹے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ والد صاحب نے اپنی عمر ایک مغل کے طور پر نہیں گذاری بلکہ فقیر کے طور پر گزاری۔“ سے قادیان کے کنپتیا لعل صراف کا یہ بیان ہے کہ ایک دفعہ خود حضرت مرزا صاحب کو بٹالہ جانا تھا۔آپ نے مجھے فرمایا کہ یکہ کر دیا جائے۔حضور جب نہر پر پہنچے تو آپ کو یاد آیا کہ کوئی چیز گھر میں رہ گئی ہے۔یکے والے کو وہاں چھوڑا اور خود پیدل واپس تشریف لائے۔یگے والے کو پل پر اور سواریاں مل گئیں اور وہ بٹالہ روانہ ہو گیا اور مرزا صاحب غالبا پیدل ہی بٹالہ گئے تو میں نے یکہ والے کو بلا کر پیٹا اور کہا کہ کم بخت! اگر مرزا نظام دین ہوتے تو خواہ تجھے تین دن وہاں بیٹھنا پڑتا تو بیٹھتا لیکن چونکہ یہ نیک اور درویش طبع آدمی ہے اس لئے تو ان کو چھوڑ کر چلا گیا۔جب مرزا صاحب کو اس کا علم ہوا تو آپ نے مجھے بلا کر فرمایا۔وہ میری خاطر کیسے بیٹھا رہتا اُسے مزدوری مل گئی اور چلا گیا۔‘سے آپ کے خادم مرزا اسماعیل بیگ مرحوم کی شہادت ہے کہ جب حضرت اقدس اپنے والد بزرگوار کے ارشاد کے ماتحت بعثت سے قبل مقدمات کی پیروی کے لئے جایا کرتے تھے تو سواری کے لئے گھوڑا بھی ساتھ ہوتا تھا اور میں بھی عموما ہمرکاب ہوتا تھا لیکن جب آپ چلنے لگتے تو آپ پیدل ہی چلتے اور مجھے گھوڑے پر سوار کرا دیتے۔میں بار بارا نکار کرتا اور عرض کرتا حضور مجھے شرم آتی ہے آپ فرماتے کہ : دو ہم کو پیدل چلتے شرم نہیں آتی۔تم کو سوار ہوتے کیوں شرم آتی ہے۔“ جب حضرت قادیان سے چلتے تو ہمیشہ پہلے مجھے سوار کراتے۔جب نصف سے کم یا زیادہ راستہ طے ہو جاتا تو میں اتر پڑتا اور آپ سوار ہو جاتے اور اسی طرح جب عدالت سے واپس ہونے لگتے تو پہلے مجھے سوار کراتے اور بعد میں آپ سوار ہوتے۔جب آپ سوار ہوتے تو گھوڑا جس چال سے چلتا۔اسی چال سے چلنے دیتے ہے مرزا دین محمد صاحب کا بیان ہے کہ میں اولاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے واقف نہ تھا یعنی ان کی خدمت میں مجھے جانے کی عادت نہ تھی۔خود حضرت صاحب گوشہ نشینی اور گمنامی کی زندگی بسر کرتے تھے، لیکن له روایت میاں الہ یار صاحب ٹھیکیدار از روایات صحابہ حصہ نیم صفحه ۱۹۲ ۱۹۳ سے سیرت المہدی حصہ اول طبع دوم صفحه ۲۱۹ س الحکم سیرت مسیح موعود نمبر مئی جون ۱۹۴۳ء ، الحکم ۲۱/۲۸ مئی ۱۹۳۲ء