حیات طیبہ — Page 16
16 کھانا لے کر واپس آیا تو شاہ صاحب نے پوچھا کہ کیا مرزا صاحب نے کھانا نہیں کھایا ؟ نوکر نے جواب دیا کہ مرزا صاحب نے فرمایا ہے کہ گھر پر ہی آکر کھاتا ہوں۔چنانچہ تھوڑی دیر کے بعد آپ ہشاش بشاش شاہ صاحب کے مکان پر پہنچے۔شاہ صاحب نے پوچھا کہ آج آپ اتنے خوش کیوں ہیں؟ کیا فیصلہ ہوا ؟ فرمایا۔مقدمہ تو خارج ہو گیا ہے۔مگر خدا تعالیٰ کا شکر ہے کہ آئندہ اس کا سلسلہ ختم ہو گیا۔شاہ صاحب کو تو اس خبر سے سخت تکلیف ہوئی مگر آپ کو کچھ ملال نہ ہوا۔کوئی دنیا دار ہوتا تو آخری عدالت میں مقدمہ ہارنے کی وجہ سے سخت خزن اور دُکھ محسوس کرتا مگر آپ خوش ہیں کہ شکر ہے مقدمہ سے خلاصی ہوئی اور خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے کے لئے فرصت مل گئی۔دوم: آپ فرماتے ہیں: میں بٹالہ میں ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے گیا۔نماز کا وقت ہو گیا اور میں نماز پڑھنے لگا۔چپڑاسی نے آواز دی مگر میں نماز میں تھا۔فریق ثانی پیش ہو گیا۔اور اس نے یک طرفہ کارروائی سے فائدہ اُٹھانا چاہا اور بہت زور اس بات پر دیا۔مگر عدالت نے پرواہ نہ کی اور مقدمہ اس کے خلاف کر دیا اور مجھے ڈگری دے دی۔میں جب نماز سے فارغ ہو کر گیا تو مجھے خیال تھا کہ شاید حاکم نے قانونی طور پر میری غیر حاضری کو دیکھا ہو مگر جب میں حاضر ہوا اور میں نے کہا میں تو نماز پڑھ رہا تھا تو اس نے کہا کہ میں تو آپ کو ڈگری دے چکا ہوں۔‘سے سوم : ایک دفعہ جبکہ آپ کی عمر پچیس تیس برس کے قریب تھی۔آپ کے والد بزرگوار کا اپنے موروثیوں سے درخت کاٹنے پر ایک تنازعہ ہو گیا۔آپ کے والد بزرگوار کا نظریہ یہ تھا کہ زمین کے مالک ہونے کی حیثیت سے درخت بھی ہماری ملکیت ہیں۔اس لئے انہوں نے موروثیوں پر دعویٰ دائر کر دیا اور حضور کو مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور بھیجا۔آپ کے ہمراہ دو گواہ بھی تھے۔آپ جب نہر سے گذر کر ایک گاؤں پتھنا نوالہ پہنچے تو راستہ میں ذرا ستانے کے لیے بیٹھ گئے اور ساتھیوں کو مخاطب کر کے فرمایا۔والد صاحب یو نہی فکر کرتے ہیں۔درخت کھیتی کی طرح ہوتے ہیں یہ غریب لوگ ہیں اگر کاٹ لیا کریں تو کیا ہرج ہے بہر حال میں تو عدالت میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مطلقاً یہ ہمارے ہی ہیں ہاں ہمارا حصہ ہو سکتے ہیں۔مور وشیوں کو بھی آپ پر بے حد اعتماد تھا۔چنانچہ جب مجسٹریٹ نے موروثیوں سے اصل معاملہ پوچھا تو انہوں نے بلا تامل جواب دیا کہ خود مرزا صاحب سے دریافت کرلیں۔چنانچہ مجسٹریٹ کے پوچھنے پر آپ نے فرمایا کہ ”میرے نزدیک تو درخت کھیتی کی طرح ہیں جس طرح کھیتی میں ہمارا حصہ ہے ویسے ہی درختوں میں بھی ہے۔چنانچہ آپ کے اس بیان پر مجسٹریٹ نے موروثیوں کے حق میں فیصلہ دے حیات النبی جلد اوّل صفحہ ۵۷ حیات النبی جلد اول صفحه ص ۵۶