حیات طیبہ

by Other Authors

Page 18 of 492

حیات طیبہ — Page 18

18 چونکہ وہ صوم وصلوٰۃ کے پابند اور شریعت کے دلدادہ تھے۔یہی شوق مجھے بھی ان کی طرف لے گیا اور میں ان کی خدمت میں رہنے لگا۔جب مقدمات کی پیروی کے لئے جاتے تو مجھے گھوڑے پر اپنے پیچھے سوار کر لیتے تھے اور بٹالہ جا کر اپنی حویلی میں باندھ دیتے۔اس حویلی میں ایک بالا خانہ تھا۔آپ اس میں قیام فرماتے اس مکان کی دیکھ بھال کا کام ایک جولا ہے کے سپر د تھا جو ایک غریب آدمی تھا۔آپ وہاں پہنچ کردو پیسے کی روٹی منگواتے یہ اپنے لیے ہوتی تھی اور اس میں سے ایک روٹی کی چوتھائی کے ریزے پانی کے ساتھ کھالیتے۔باقی روٹی اور دال وغیرہ جو ساتھ ہوتی۔وہ اُس جولا ہے کو دے دیتے اور مجھے کھانا کھانے کے لئے چار آنہ دیتے تھے۔آپ بہت ہی کم کھایا کرتے تھے اور کسی قسم کے چسکے کی عادت نہ تھی۔1 آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ۱۸۶۴ ء یا ۱۸۶۵ء میں جب آپ کی عمر تیس یا اکتیس برس کی تھی۔آپ نے ایک کشف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا۔اس کشف میں چونکہ آپ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عشق پر روشنی پڑتی اور آپ کے شاندار مستقبل کی نشاندہی ہوتی ہے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ناظرین کو حضور کے روحانی مقام سے مطلع کرنے کے لئے وہ یہاں درج کر دیا جائے آپ فرماتے ہیں: اوائل جوانی میں ایک رات میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک عالیشان مکان میں ہوں جو نہایت پاک اور صاف ہے اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور چرچا ہورہا ہے۔میں نے لوگوں سے دریافت کیا کہ حضور کہاں تشریف فرما ہیں ؟ انہوں نے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا۔چنانچہ میں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے اندر چلا گیا اور جب میں حضور کی خدمت میں پہنچا تو حضور بہت خوش ہوئے اور آپ نے مجھے بہتر طور پر میرے سلام کا جواب دیا۔آپ کا حسن و جمال اور ملاحت اور آپ کی پر شفقت و پر محبت نگاہ مجھے اب تک یاد ہے اور مجھے کبھی بھول نہیں سکتی۔آپ کی محبت نے مجھے فریفتہ کر لیا اور آپ کے حسین و جمیل چہرہ نے مجھے اپنا گرویدہ بنالیا۔اس وقت آپ نے مجھے فرمایا۔اے احمد! تمہارے دائیں ہاتھ میں کیا چیز ہے؟ جب میں نے اپنے دائیں ہاتھ کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ میرے ہاتھ میں ایک کتاب ہے اور وہ مجھے اپنی ہی ایک تصنیف معلوم ہوئی۔میں نے عرض کیا حضور! یہ میری ایک تصنیف ہے۔“ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا۔کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟ خاکسار نے عرض کیا کہ اس کتاب کا نام میں نے قطبی رکھا ہے۔۔۔غرض حیات احمد جلد دوم صفحہ ۱۹۶ ترجمه از آئینہ کمالات اسلام صفحه ۵۴۹٬۵۴۸