حیات طیبہ

by Other Authors

Page 15 of 492

حیات طیبہ — Page 15

15 میں مجھے لگا دیا۔میں اس طبیعت اور فطرت کا آدمی نہیں تھا۔اس لئے اکثر والد صاحب کی ناراضگی کا نشانہ رہتا تھا۔ان کی ہمدردی اور مہربانی میرے پر نہایت درجہ پر تھی مگر وہ چاہتے تھے کہ دنیا داروں کی طرح مجھے رو بخلق بناویں اور میری طبیعت اس طریق سے سخت بیزار تھی۔ایک مرتبہ ایک صاحب کمشنر نے قادیان آنا چاہا۔میرے والد صاحب نے بار بار مجھ کو کہا کہ ان کی پیشوائی کے لیے دو تین کوس جانا چاہئے۔مگر میری طبیعت نے نہایت کراہت کی اور میں بیمار بھی تھا اس لئے نہ جا سکا۔پس یہ امر بھی ان کی ناراضگی کا موجب ہوا۔اور وہ چاہتے تھے کہ میں دنیوی امور میں ہر دم غرق رہوں جو مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا۔مگر تا ہم میں خیال کرتا ہوں کہ میں نے نیک نیتی سے نہ دنیا کے لئے بلکہ محض ثواب اطاعت حاصل کرنے کے لئے اپنے والد صاحب کی خدمت میں اپنے تئیں محو کر دیا تھا اور ان کے لئے دعا میں بھی مشغول رہتا تھا اور وہ مجھے دلی یقین سے براً بالوالدین جانتے تھے اور بسا اوقات کہا کرتے تھے کہ میں صرف ترحم کے طور پر اپنے اس بیٹے کو دنیا کے امور کی طرف توجہ دلاتا ہوں ورنہ میں جانتا ہوں کہ جس طرف اس کی توجہ ہے یعنی دین کی طرف صحیح اور سچی بات یہی ہے۔ہم تو اپنی عمر ضائع کر رہے ہیں۔اے تاریخ ادیان کے مطالعہ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جن وجودوں کے ذمہ اصلاح خلق کا کام کرنا چاہتا ہے۔انہیں ان کے زمانہ ماموریت سے قبل ایسے حالات میں سے گذارتا ہے جن کی وجہ سے انہیں اصلاح خلق کے کام میں بہت مددملتی ہے۔مثلاً حضرت اقدس کے حالات کو ہی دیکھ لیجئے۔آپ کے زمانہ میں انصاف کے حصول کے لئے انگریزی عدالتیں قائم تھیں جن میں فریقین مقدمہ اور وکلاء عموما سچائی، امانت اور دیانت کو خیر باد کہہ کر مقدمات کی پیروی کرتے تھے۔آپ نے اس کے خلاف مقدمات کی پیروی کر کے اس زمانہ کے لوگوں کے لئے ایسا بے نظیر نمونہ قائم کیا کہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ آپ نے فلاں مقدمہ میں ذرہ بھر بھی سچائی سے انحراف کیا۔بلکہ جیسا کہ آئندہ صفحات سے ظاہر ہو گا آپ نے ایسے عدیم النظیر نمونے پیش کئے ہیں کہ مخالف سے مخالف کو بھی یہ اقرار کرنے کے بغیر چارہ نہ رہا کہ آپ نے اس بارہ میں شاندار مثال قائم کی ہے۔فی الحال اس سلسلہ میں آپ کے زمانہ ماموریت سے قبل کی میں صرف چند مثالیں پیش کرتا ہوں۔اول: ایک مقدمہ کی پیروی کے لئے آپ کو لاہور جانا پڑا۔وہاں آپ سید محمد علی شاہ صاحب کے ہاں فروکش تھے جو قادیان کے ایک معزز رئیس تھے مگر محکمہ جنگلات میں ملازمت کے سلسلہ میں لاہور میں مقیم تھے۔چیف کورٹ میں مقدمہ تھا۔شاہ صاحب کا ملازم آپ کے لئے چیف کورٹ میں کھانا لے جایا کرتا تھا۔ایک دن وہ کتاب البریہ صفحه ۱۵۰ تا۱۵۲ حاشیه