حیات طیبہ

by Other Authors

Page 341 of 492

حیات طیبہ — Page 341

341 صاحب کی شہادت کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔۵- سیرۃ الا بدال : ۱۴؍ دسمبر ۱۹۰۳ء۔یہ ایک فصیح و بلیغ مگر مشکل ترین عربی زبان کا ایک چھوٹا سا رسالہ ہے جو حضرت اقدس نے مولویوں کی عربی دانی کا امتحان لینے کے لئے تصنیف فرما یا تھا۔اس رسالہ میں حضور نے ابدال یعنی اولیا اللہ کی علامات تحریر فرمائی ہیں۔پیدائش صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبه ۲۵ / جون ۱۹۰۴ء ۲۵ جون ۱۹۰۴ء کو حضرت اقدس کے ہاں ایک صاحبزادی پیدا ہوئیں : جن کا نام امۃ الحفیظ بیگم رکھا گیا۔صاحبزادی صاحبہ کے متعلق حضرت اقدس کو ایک الہام ہوا تھا۔وخت کرام اے سفر لاہور۔۲۰ اگست ۱۹۰۴ء لاہور کی جماعت نے متعدد مرتبہ حضور کی خدمت میں لاہور تشریف لانے کی درخواست کی تھی اور حضور نے وعدہ بھی فرما لیا تھا۔مگر مولوی کرم الدین والے مقدمات میں مصروفیت کی وجہ سے حضور اپنے اس وعدے کو پورا نہیں کر سکے تھے۔۱۸ / اگست ۱۹۰۴ ء کی پیشی کے بعد جو ۵ ستمبر ۱۹۰۴ء کی تاریخ پڑی۔تو درمیانی وقفہ کو کافی سمجھ کر حضور گورداسپور سے ہی معہ اہل و عیال ۲۰ / اگست ۱۹۰۴ ء کو لاہور تشریف لے آئے حضرت مولانا حکیم نورالدین، حضرت مولوی عبد الکریم ، حضرت نواب محمد علی خاں اور جناب مولوی محمد علی صاحب بھی حضور کے ہمراہ تھے۔حضور کی آمد آمد کی خبر بجلی کی طرح سارے شہر میں پھیل گئی۔چنانچہ جب حضور اسٹیشن پر پہنچے۔تو اسٹیشن پر ہندو اور مسلمانوں کا اس قدر مجمع تھا کہ تیل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔کافی تعداد میں انگریز بھی حضور کو دیکھنے کے لئے آئے ہوئے تھے۔حضور کے قیام کے لئے حضرت میاں معراج الدین صاحب عمر کا مکان تجویز ہوا۔جو بعد میں ”مبارک منزل کے نام سے مشہور ہو گیا۔پانی ناپاک نہیں ہوا دوسرے دن ۲۱ اگست ۱۹۰۴ ء کو حضور ظہر کی نماز کے وقت باہر تشریف لائے۔نماز باجماعت ادا کرنے لے گیارہ سال کی عمر میں ان کا نکاح حضرت نواب میاں عبداللہ خان صاحب بن حضرت نواب محمد علی خان صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے ساتھ قرار پایا۔چنانچہ کے جون ۱۹۱۵ ء مطابق ۲۳ رجب المرجب ۱۳۳۳ هجری بروز دوشنبه اس مبارک نکاح کا اعلان پندرہ ہزار روپیہ مہر پر حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نے بعد نماز عصر مسجد اقصیٰ میں کیا اور اس کے قریباً دو سال کے بعد ۲۳ فروری ۱۹۱۷ء مطابق ۲۹ ربیع الثانی ۱۳۳۵ھ بروز پنجشنبه تقریب تو دلع (رخصتانہ ) عمل میں آئی اور ۲۳ اور ۲۴ تاریخ کو حضرت نواب صاحب نے احباب قادیان کو میاں عبداللہ خاں صاحب کی دعوت ولیمہ دی۔