حیات طیبہ

by Other Authors

Page 340 of 492

حیات طیبہ — Page 340

340 تصنیفات ۱۹۰۳ ۱ مواہب الرحمن : ۱۴ جنوری ۱۹۰۳ء۔مصر سے ایک عربی اخبار اللواء “ نکلا کرتا تھا۔نومبر ۱۹۰۲ء میں اس کے ایڈیٹر نے اپنے پرچہ میں لکھا کہ ایک انگریزی پرچہ سے معلوم ہوا ہے کہ ہندوستان کے ایک شخص نے مسیحیت اور نبوت کا دعویٰ کیا ہے اور کہتا ہے کہ طاعون کا ٹیکہ کرانا کچھ مفید نہیں۔یہ توکل کے خلاف ہے۔۲۵ نومبر ۱۹۰۳ ء کو حضرت اقدس کی خدمت میں یہ اخبار پیش ہوا۔حضور نے فرمایا کہ: معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ وہ مصر میں اعلان واشاعت کرے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اشاعت اسی طرح ہوئی۔مخالف بڑے بڑے پیرایوں میں شہرت دیتے 66 تھے۔سعیدوں کا گروہ اُن سے نکل کر الگ ہو گیا۔اس سے اُن کو خبر تو ہوگئی۔“ اس پر حضرت اقدس نے ارادہ فرمایا کہ اخبار اللواء کے جواب میں ایک کتاب عربی زبان میں تصنیف کی جائے۔چنانچہ آپ نے ”مواہب الرحمن لکھنا شروع کر دی۔حضور نے اس کتاب میں ایمان اور رعایتِ اسباب پر بڑی مبسوط بحث فرمائی ہے۔۲ نسیم دعوت : ۲۸ فروری ۱۹۰۳ء حضرت اقدس کی تبلیغی سرگرمیوں کو دیکھ کر قادیان کے آریوں میں بھی جوش پیدا ہوا اور انہوں نے سے فروری ۱۹۰۳ ء کو حضور کے خلاف ایک نہایت ہی گندہ اشتہار نکالا۔جس کا عنوان تھا۔” کا دیانی پوپ کے چیلوں کی ایک ڈینگ کا جواب اس اشتہار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت اقدس اور جماعت کے معززین کے خلاف اس قدر بکو اس کی گئی تھی کہ الامان والحفیظ۔اس اشتہار کے جواب میں حضور نے کتاب نسیم دعوت شائع فرمائی۔اس کتاب میں پہلے توحضور نے اپنی جماعت کو تاکید فرمائی کہ صبر سے کام لیں اور پھر آریوں کی ایک ایک بات کا جواب دیا۔سناتن دھرم : ۸/ مارچ ۱۹۰۳ - قادیان کے آریہ صاحبان نے یکم مارچ ۱۹۰۳ ء کو ایک جلسہ کیا۔حضرت اقدس نے اس جلسہ میں اپنی کتاب ” نسیم دعوت بھجوادی۔اس کتاب میں نیوگ کا ذکر پڑھ کر پنڈت رام بھیجدت نے کہا کہ اگر مرزا صاحب اس کتاب سے قبل میرے ساتھ مسئلہ نیوگ پر گفتگو کر لیتے۔تو نیوگ کے فوائد بیان کر کے میں ان کی تسلی کر دیتا۔پنڈت جی کی یہ بات سن کر حضرت اقدس نے ایک رسالہ ”سناتن دھرم تصنیف فرمایا۔جس میں مسئلہ نیوگ کی گندگی نہایت ہی وضاحت سے بیان فرمائی۔یہ رسالہ ۸ مارچ ۱۹۰۳ ء کو شائع ہوا۔-۴- تذکرۃ الشہادتین : ۱۶/ اکتوبر ۱۹۰۳ ء۔یہ کتاب حضور نے ۱۶ / اکتوبر ۱۹۰۳ ء کو شائع فرمائی۔اس میں حضرت اقدس نے حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کابل اور ان کے شاگر درشید حضرت میاں عبدالرحمن