حیات طیبہ

by Other Authors

Page 342 of 492

حیات طیبہ — Page 342

342 کے بعد احباب جماعت نے اصرار کیا کہ حضور کرسی پر تشریف فرما ہوں تا سب لوگ بآسانی حضور کی زیارت کر سکیں۔اس روز حضور نے حقائق و معارف سے لبریز ایک نہایت ہی لطیف تقریر فرمائی۔پنجاب کے اکثر ضلعوں سے کافی تعداد میں مرد اور عورتیں جمع ہو گئی تھیں۔حضرت میاں عبدالعزیز صاحب مغل فرمایا کرتے تھے کہ کثرتِ ہجوم کی وجہ سے پانی کے لئے بڑے بڑے مٹکے رکھے ہوئے تھے۔بعض عورتوں نے جو اپنے بچوں کے ہاتھ پاؤں دھونے کے لئے ان سے پانی لیا۔تو کسی نے شکایت کر دی کہ حضور عورتوں نے تو پانی کو نا پاک کر دیا ہے۔حضور بڑی متانت سے مٹکوں کی طرف تشریف لائے۔ایک ملکہ سے کچھ پانی لے کر پیا اور پھر فرمایا کہ پانی تو بڑا ٹھنڈا ہے گویا حضور نے خود اپنے عمل سے بتادیا کہ پانی ناپاک نہیں ہوا۔اگر نا پاک ہوتا تو میں کیوں پیتا۔ایک ایمان افزا تقریر اور کثرت بیعت ۲۸ اگست ۱۹۰۴ ء کو حضور نے تو بہ، ایمان اور نزول بلا کی فلاسفی پر ایک نہایت ہی ایمان افزا تقریر فرمائی۔اس روز بیرون جات کے بہت سے احباب نے بیعت بھی کی۔جو کثرت بیعت کنندگان کی وجہ سے پگڑیوں کے واسطہ سے کی گئی۔لیکچر لاہور۔۱۳ ستمبر ۱۹۰۴ء ۳ ستمبر ۱۹۰۴ء کو آپ کا مشہور و معروف لیکچر ” اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب کے موضوع پر اس منڈ وہ میں ہوا جو مزار حضرت داتا گنج بخش کے عقب میں ہے اور اس وقت میلا رام کا منڈ وہ کہلاتا تھا۔لیکچر کے متعلق اشتہارات سارے لاہور میں تقسیم کر دیئے گئے تھے۔اس لئے لیکچر شروع ہونے سے قبل ہی سارا منڈ وہ بھر گیا۔مخالف علماء لیکچر گاہ کے نزدیک لوگوں کو جلسہ گاہ سے روکنے کے لئے گلا پھاڑ پھاڑ کر یہ کہہ رہے تھے کہ جو مسلمان لیکچر سنے گا۔اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا۔ایک مولوی جو شیشم ( ٹاہلی کے درخت پر چڑھ کر لوگوں کو روک رہا تھا۔وہ بعد میں ”مولوی ٹاہلی کے نام سے مشہور ہو گیا۔خدا کی قدرت ! کہ جیسے جیسے حضرات علماء لوگوں کو روکتے تھے۔ویسے ویسے مخلوق زیادہ ذوق و شوق کے ساتھ اس طرف انڈی چلی آتی تھی۔پولیس کا بھی زبر دست انتظام تھا۔لیکچر ٹھیک اپنے وقت مقررہ پر صبح ساڑھے چھ بجے شروع ہوا۔حضرت اقدس کا لیکچر جوطبع کروالیا گیا تھا۔حضرت مولوی عبدالکریم صاحب نے ہزار ہا کے مجمع میں بلند آواز سے پڑھ کر سنایا۔لیکچر دوحصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔پہلے حصہ میں اسلام اور اس ملک کے دوسرے مذاہب کے درمیان موازنہ کیا گیا تھا۔اور دوسرے حصہ میں زندہ خدا کے زندہ نشانات پیش کر کے اسلام کے زندہ مذہب ہونے کا ثبوت دیا گیا تھا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاح