حیات طیبہ

by Other Authors

Page 314 of 492

حیات طیبہ — Page 314

314 کرنے کے لئے جگہ نہ تھی۔حضور بڑی مشکل سے اسٹیشن سے باہر نکل کرفٹن پر سوار ہوئے۔راجہ غلام حیدر صاحب جو ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک والے مقدمہ کے زمانہ میں کپتان ڈگلس ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے مسلخواں تھے وہاں تحصیلدار متعین تھے۔وہ برابر حضرت اقدس کی فٹن کے ساتھ ساتھ ہجوم کے ریلے کو روکتے اور مناسب انتظام کرتے چلے جارہے تھے۔شہر جہلم کی حالت یہ تھی کہ حضرت اقدس کی تشریف آوری کا علم پا کر لوگ کافی وقت پہلے سے سڑکوں ، مکانوں کی چھتوں اور درختوں پر جمع تھے۔اس روز حضرت اقدس میں اس قدر جذب مقناطیسی تھا اور چہرہ پر اس قدر ٹور برس رہا تھا کہ جس شخص کی نظر آپ پر پڑتی تھی وہ پھر الگ ہونے کا نام نہیں لیتا تھا۔ہر شخص کا یہی جی چاہتا تھا۔کہ وہ گھنٹوں حضور کی طرف ٹکٹکی لگا کر دیکھتا ہی رہے۔حضور کے قیام کے لئے سردار ہری سنگھ صاحب رئیس اعظم جہلم نے اپنی کوٹھی پیش کی تھی جو دریائے جہلم کے کنارے پر تھی چنانچہ حضور اس کوٹھی میں داخل ہو گئے۔مگر کوٹھی کے باہر مشتاقان زیارت کا ہجوم موجود تھا اور لوگ چاہتے تھے کہ کسی صورت حضرت اقدس کا دیدار نصیب ہو جائے۔یہ حالت دیکھ کر کہ لوگ اپنے گھروں کو نہیں جاتے۔راجہ غلام حیدر خاں صاحب حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ہجوم کی کثرت کا ذکر کیا اور ان کی خواہش و تمنا کا اظہار کر کے حضور سے درخواست کی کہ اگر حضور تھوڑی دیر کے لئے کوٹھے پر تشریف فرما ہو جائیں تو مشتاقان زیارت کی آرزو پوری ہو جائے اور وہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جائیں۔حضور نے راجہ صاحب کی یہ درخواست منظور فرمالی۔ایک کرسی آپ کے لئے کوٹھے پر بچھا دی گئی۔جس پر حضور تھوڑی دیر کے لئے رونق افروز ہو گئے اور پھر نیچے تشریف لے آئے اور ہجوم اپنے اپنے گھروں کی طرف روانہ ہو گیا۔جہلم کی جماعت نے مہمان نوازی کا خوب حق ادا کیا اور قریباً تین روز تک سینکڑوں آدمیوں کو دونوں وقت حسنِ انتظام کے ساتھ کھانا کھلاتی رہی فجز اھم اللہ احسن الجزاء۔دوسرے روز یعنی ۷ ارجنوری ۱۹۰۳ء کو عدالت میں مقدمہ پیش ہونا تھا۔عدالت کے باہر حضور ایک بڑے درخت کے نیچے گری پر تشریف فرما تھے اور احباب کے لئے بھی کافی تعداد میں گرسیاں موجود تھیں۔حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید بھی اس سفر میں حضور کے ہمراہ تھے اور خان عجب خاں صاحب آف زیدہ بھی موجود تھے اور لوگ ہزار ہا کی تعداد میں ارد گرد ہجوم کئے ہوئے تھے اس جذب اور روحانی تصرف کو دیکھ کر خاں عجب خانصاحب نے عرض کی کہ حضور دل چاہتا ہے کہ حضور کے ہاتھ کو بوسہ دوں۔حضور نے بلا تکلف ہاتھ آگے کر دیا اور خاں صاحب نے فرط محبت کے ساتھ اُسے چوم لیا۔اس کے بعد حضرت اقدس نے ایک پر معارف تقریر فرمائی۔جو پوری توجہ اور محویت کے ساتھ سنی گئی۔جب مقدمہ عدالت میں پیش ہوا تو حضرت اقدس کو دیکھتے ہی لالہ سنسار چند مجسٹریٹ درجہ اوّل تعظیما کھڑے ہو گئے۔خلقت کا کچہری میں بھی بہت بڑا ہجوم تھا۔مقدمہ پیش ہوا۔مولوی کرم الدین کی طرف سے حضرت اقدس، حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب اور حضرت حکیم مولوی فضل دین