حیات طیبہ — Page 315
315 صاحب بھیروی کے خلاف استغاثہ تھا۔حضرت اقدس کے خلاف یہ استغاثہ تھا کہ آپ نے اپنی کتاب ”نزول المسیح میں محمد حسن فیضی کی نسبت ہتک آمیز الفاظ استعمال کئے ہیں۔یادر ہے کہ نزول مسیح کی ابھی اشاعت نہیں ہوئی تھی کہ مولوی کرم الدین نے کسی شخص کے ذریعہ اس کے مطبوعہ اوراق چوری کروا کر استغاثہ میں شامل کر دیئے تھے۔حضرت شیخ صاحب کے خلاف یہ الزام تھا کہ انہوں نے اپنے اخبار الحکم میں مولوی کرم الدین کے خطوط شائع کئے تھے اور کچھ محمد حسن فیضی کی نسبت بھی لکھا تھا۔حضرت مولوی فضل دین صاحب کے خلاف یہ الزام تھا کہ وہ مالک مطبع تھے۔کرم دین جو مستغیث تھا۔اس نے استغاثہ کرنے کا حق یوں جتلا یا کہ چونکہ میں متوفی کا سالا اور اس کی اولاد کا متوتی ہوں۔اس لئے ان ہتک آمیز کلمات سے مجھے رنج پہنچا ہے اور مجھے عدالت دیوانی میں ملزمان سے ہر جانہ وصول کرنے کا استحقاق ملنا چاہئے۔حضرت اقدس کی طرف سے وکیل خواجہ کمال الدین صاحب تھے۔ان کے مددگار کے طور پر مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے شیخ نور احمد صاحب اور میاں عزیز اللہ صاحب تھے۔وکلاء نے یہ سوال اُٹھایا کہ آیا قانون کی رو سے مولوی کرم الدین کو متوفی کا ایسا جائز وارث قرار دیا جا سکتا ہے کہ اسے متوفی کے خلاف مبینہ طور پر ہتک آمیز کلمات استعمال کرنے والے پر استغاثہ دائر کرنے کا حق حاصل ہو؟ اس پر بڑی بحث ہوئی۔بحث سننے کے بعد مجسٹریٹ نے یہ فیصلہ دیا کہ متوفی کے باپ، اس کی بیوہ اور لڑکوں کی موجودگی میں کرم الدین کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ کسی کے خلاف استغاثہ دائر کرے اور نیز اس کا اتنا کہہ دینا کافی نہیں کہ مجھے متوفی مذکور کی نسبت کلمات ہتک آمیز سن کر رنج پہنچا ہے۔یہ محض ایک قیاسی اور وہمی بات ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں۔پس اندریں حالات مستغیث کو حرجانہ کی نسبت دیوانی مقدمہ دائر کرنے کا حق نہیں مل سکتا۔لہذا مقدمہ خارج کیا جاتا ہے۔کچہری سے واپس ہو کر حضرت اقدس فرودگاہ پر تشریف لائے۔وعظ ونصیحت کا سلسلہ تو ہر وقت جاری رہتا تھا اور لوگ کثرت کے ساتھ پنجاب کے تمام حصوں سے زیارت کے لئے جہلم میں جمع تھے۔بیعت کا جو سلسلہ شروع ہوا تو گیارہ سومر دوں اور دوسوعورتوں نے بیعت کی۔لوگوں نے بہت ارادت اور انکسار سے نذرانے دیئے اور تحفے پیش کئے اور اس طرح حضرت اقدس ہر طرح کی برکتوں سے مالا مال ہو کر واپس تشریف لائے۔بے محل نہ ہوگا اگر اس جگہ لاہور کے ایک غیر احمدی اخبار پنجہ فولاد کا ایک حوالہ نقل کر دیا جائے۔اخبار مذکور نے لکھا کہ : جہلم سے واپسی پر مرزا غلام احمد صاحب قادیانی وزیر آباد پہنچے۔باوجود یکہ نہ انہوں نے شہر میں آنا تھا اور نہ آنے کی کوئی اطلاع دی تھی اور صرف اسٹیشن پر ہی چند منٹوں کا قیام تھا۔پھر بھی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر خلقت کا وہ ہجوم تھا کہ تل دھر نے کو جگہ نہ تھی۔اگر اسٹیشن ماسٹر صاحب جو نہایت خلیق اور ملنسار ہیں خاص طور پر اپنے حسنِ انتظام سے کام نہ لیتے۔تو کوئی شبہ