حیات طیبہ

by Other Authors

Page 313 of 492

حیات طیبہ — Page 313

313 یہ لکھا تھا کہ میں نے ہرگز مرزا صاحب کو کوئی خط نہیں لکھا۔بلکہ کسی بچہ سے لکھوا کر میں نے مرزا صاحب کے ملم ہونے کا امتحان لیا تھا وغیرہ وغیرہ۔اس کے بعد اس نے جہلم میں لالہ سنسار چند صاحب مجسٹریٹ کی عدالت میں مذکور الصدر تینوں حضرات کے خلاف زیر دفعہ ۵۰۰-۱۵۰۱ اور ۵۰۲ تعزیرات ہندا زالہ حیثیت عرفی کی نالش دائر کر دی۔جس کے سلسلہ میں حضرت اقدس کو جہلم تشریف لے جانا پڑا۔مقدمہ میں بریت کی پیشگوئی اور اس کی اشاعت اللہ تعالیٰ نے اس مقدمہ سے ایک سال قبل آپ کو متعدد بار یہ رویا دکھائی تھی کہ ایک شخص لیم آپ کی عزت کو نقصان پہنچانا چاہے گا لیکن وہ اپنی اس خواہش میں ناکام و نامرادر ہے گا۔اُن دنوں آپ ایک عربی کتاب ”مواہب الرحمن تصنیف فرما ر ہے تھے۔سفر جہلم پر تشریف لے جانے سے قبل آپ نے چاہا کہ اس میں بطور پیشگوئی یہ رویا بھی درج کر دی جائے اور پھر اس کی اشاعت بھی جہلم جانے سے پہلے ہی ہو جائے۔چنانچہ آپ نے یہ رو یا مواہب الرحمن میں شائع فرما دی۔مقدمہ کی تاریخ ۱۷/ جنوری ۱۹۰۳ء مقرر ہو چکی تھی۔اس لئے حضور ۱۵؍ جنوری کو قادیان سے روانہ ہوئے۔راستہ میں ۱۶ جنوری کو بمقام لاہور حضور کو الہام ہوا۔أُرِيكَ بَرَكَاتٍ مِّنْ كُلِّ طَرَفِ یعنی میں تجھے ہر ایک پہلو سے برکتیں دکھلاؤں گا۔حضرت اقدس نے یہ الہام اُسی وقت تمام احباب کو سنا دیا۔رات آپ نے لاہور میں گزاری۔۱۶ / جنوری ۱۹۰۳ء کو بذریعہ ریل گاڑی جہلم کی طرف روانہ ہوئے۔لاہور سے لے کر جہلم تک راستہ کے تمام سٹیشنوں یعنی لاہور، گوجرانوالہ، وزیر آباد، گجرات، لالہ موسیٰ اور جہلم پر مشتاقان زیارت کا ہر جگہ ہجوم تھا اور اسٹیشنوں پر پلیٹ فارم کے ٹکٹ ختم ہو جانے کی وجہ سے بکثرت لوگ جنگلے توڑ کر پلیٹ فارم پر آگئے۔ہر شخص آپ کے چہرہ مبارک پر ایک نظر ڈالنے کیلئے بے چین ہورہا تھا۔ریل کے عملہ نے بھی لوگوں کے ساتھ نہایت ہی نرمی کا سلوک کیا۔کئی جگہ گاڑی اپنے وقت پر روانہ نہ کی گئی۔جب گاڑی چلتی تو لوگوں کا گاڑی سے الگ کرنامشکل ہو جاتا۔کافی دیر تک لوگ گاڑی کے ساتھ ساتھ دوڑتے ہوئے دکھائی دیتے تھے۔راستہ میں ایک انگریز جنٹلمین اور لیڈی حضرت اقدس کا فوٹو لینے کی ہر اسٹیشن پر کوشش کرتے رہے مگر انہیں کوئی موقعہ نہ ملا۔گجرات کے اسٹیشن پر چوہدری نواب خاں صاحب تحصیلدار گجرات نے چائے اور کھانے سے آپ اور آپ کے رفقاء کی تواضع کی۔جب خدا خدا کر کے گاڑی جہلم کے اسٹیشن پر پہنچی تو زائرین کے ہجوم کا یہ حال تھا کہ جہاں تک نظر جا سکتی تھی۔آدمی ہی آدمی نظر آتا تھا۔حضرت اقدس کے لئے سیکنڈ کلاس کا ڈبہ ریز رو تھا۔اس لئے اس زمانہ کے دستور کے مطابق ضروری تھا کہ جہلم کے اسٹیشن پر وہ ڈبہ کاٹ کر علیحدہ کر دیا جاتا۔مگر کثرت ہجوم کا یہ حال تھا کہ انجن کو گاڑی کاٹنے اور الگ